Latest Post

انٹیلیجنس -

انٹیلیجنٹ لوگوں کا کام ہے


عام تعلیم صرف ایک راستہ ہے،منزل نہیں ،تعلیم ہنر مند نہیں بناتی ڈاکٹر عبد القدیر خان ،ایک معمولی سا اپنڈکس کا آپریشن نہیں کر سکتا
اور نہ ہی ایک سرجن اپنی گاڑی ٹھیک کر سکتا ہے
دنیا کی پیچیدہ ترین تعلیم ہے انٹیلیجنس ،یہ کام کیسے ہوتا ہے ،کون کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے ،یہ عقل سے سمجھا نہیں جا سکتا اور نہ ہی کسی بھی قسم کی تعلیم اس کا احاطہ کر سکتی ہے ،اور نہ دانشوری سے غلط یا صحیح ثابت کیا جا سکتا ہے جاسوسی ایک انتہائی مشکل کام ہے یہ بارڈر پر ٹینک کا گولہ چھاتی پر کھانے سے بھی مشکل ہے یہ ایک ایسی گمنام زندگی ہے ،جس کا کسی کو ادراک بھی نہیں ہو سکتا ،مجھے پاکستانی پڑھے لکھے دانشوروں کے دلائل حیرت میں ڈال دیتے ہیں یا انکو علم نہیں یا پھر پڑھے لکھے جاہل ہیں
انٹیلیجنسی نوکری نہیں ،پیشہ نہیں ،ذریعہ معاش نہیں ہر لمحہ ایک مشن کا نام ہے
اور یہ بڑے با کمال لوگ ہوتے ہیں چونکہ ان کی داستانیں فلموں کی طرح لکھی نہیں جاتیں ،اور نہ جنگجوؤں کی طرح بیان کی جاتی ہیں ،اس لیئے لوگ یہ سمجھتے ہیں ،یہ بھی ایک نوکری ہے جسکی لوگ تنخواہ لیتے ہیں
یہ واحد کام ہے جس کی تنخواہ بندہ خود نہیں لیتا ،ہمارا ایک جاسوس تین سال خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رح کے مزار پر ملنگ بن کر رہا ،ادھر سے ہلا نہیں ،کھاتا لنگر سے اور سوتا زمین پر تھا ،آخر اسے انڈین انٹیلیجنس نے پکڑ لیا ،بہت مارا ،اتنا مارا کہ اس کے اندر سےخون بہنا شروع ہو گيا ،جب انہیں یقین ہو گيا کہ اب یہ زندہ نہیں رہے گا تو پھینک دیا ،اسے دہلی پاکستانی سفارت خانے لایا گيا ،علاج ہوا اور ٹھیک ہوا اب ہر تعلیم یافتہ یہی سوچے گا ،انہوں نے اسے قتل کیوں نہیں کیا 🤔
تو جناب اگر وہ قتل کرتے تو انکا ایک ایجنٹ یا سفارت کار ادھر قتل ہو جاتا ،اور اگر اسے ملک سے ناپسندیدہ کہہ کے نکالتے تو پاکستان انکا ایک نکال دیتا ،جو ہو سکتا ہے بہت اہم کام کر رہا ہو ،روزانہ لاکھوں لوگ کراچی جاتے اور آتے ہیں ،اب ان میں ایک جاسوس بھی گھس جائے تو کسی کو کیا پتہ کون ہے اور کدھر ہے
اب ایک آدمی جو اسرائیل سے ٹرینگ لیتا ہے ،پشتو سیکھتا ہے ،سارے طور طریقے سیکھتا ،جب مکمل ٹرینڈ ہو جاتا ہے تو افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے ،پاکستانی پشتون لباس میں ،پشتو پٹھانوں کی طرح بولتا ہے لباس انہی کی طرح پہنتا ہے ،نسوار تک کھاتا ہے قہوہ پیتا ہے ،کباب کھاتا ہے ،پاکستانی شناختی کارڈ رکھتا ہے ،حلیئے سے بھی پاکستانی لگتا ہے ،اور یہاں کام کرنا شروع کر دیتا ہے ،خود کش حملے کرواتا ہے ،پہلے موجود ایجنٹوں کے ساتھ رابطے کرتا ہے بنوں میں موجود ایک یہودی جو عالم بنا ہوا تھا سے مدد لیتا ہے جو وہاں وہاں دس سے مسجد اور مدرسہ چلا رہا ہوتا ہے ،پولیس پر ،فوج پر ،سیاستدانوں پر ،شہریوں پر حملے کرواتا ہے ،ملکی ادارے اس گمنام جاسوس کو ڈھونڈھتے ہیں ،کہ دھماکہ ہوا کیا تو اس نے کروایا کس نے جب مدرسے پر آدھی رات کو چھاپا پڑتا ہے تو مولوی بھاگ جاتا ہے،اور لوگوں کو کہتا ہے یہ دھماکے آئی ایس آئی کرواتی ہے ،اور فوج پٹھانوں کی دشمن ہے ،لوگ بھی سوچتے ہیں جو بندہ ہمیں قرآن اور حدیث پڑھاتا رہا وہ کیسے جھوٹ بول سکتا ہے ،اس مولوی کے مسجد کے تہہ خانے سے کیمپیٹر اور تمام ریکارڈ قبضے میں لیا جاتا ہے ،اسے ڈیکوڈ کیا جاتا ہے ،اور جب اسکے ساتھیوں کی تلاش شروع کی جاتی ہے ،تو پتہ چلتا ہے مولانا صاحب تو کابل سے دوبئی فرار ہو چکے ہیں اور وہاں سے انہیں گرفتار کیا جاتا ہے ،باقی سارے آپریٹر بھی بھاگ جاتے ہیں
لیکن ایک چھپتا رہتا ہے اور اپنا کام جاری رکھتا ہے بے پناہ پیسہ اس کے پاس ہوتا ہے ہر جگہ رشوت لینے والی انتظامیہ کو خوش کرتا رہتا ہے ،لیکن ایک جاسوس جو اسے پہچان لیتا ہے ،اور مقامی پولیس سے مدد مانگتا ہے ،لیکن کسی نہ کسی طریقے سے پیسوں کے زور پر انٹیلیجنس فورس کے پہنچنے سے پہلے فرار ہو جاتا ہے ،اور کابل کے راستے امریکا بھاگ جاتا ہے امریکی ادارے اسکے کام سے بہت خوش ہوتے ہیں اور پاکستانی سفیر کو کہتے ہیں ،جتنی سہولت چاہیئے لے لو جتنے ڈالر چاہیئیں لے لو ،کسی طریقے سے یہ بندہ پاکستان میں دوبارہ بھجوا دو سفیر صاحب اسکو لا محدود ویزہ عطا فرماتے ہیں ،اور پاکستانی وزیر داخلہ کو کہتے ہیں ،اس بندے کو رن وے سے ہی گاڑی میں ڈالو اور لاہور امریکی سفارت خانے پہنچا دو
بندہ وہاں پہنچ جاتا ہے ،اور پھر چند ہفتے بعد دھماکے شروع ہو جاتے ہیں ،وہی کام کہ کون کرواتا ہے پتہ چلتا ہے وہی بندہ ہے لیکن اب ----- خان کے نام سے نہیں ریمنڈ ڈیوس کے نام سے کام کر رہا ہے ،نگرانی شروع ہوتی ہے ،،کوئی بھی ملک جس کو ویزہ دے دے وہ ایک معاہدہ سمجھا جاتا ہے ،اسکو کینسل آسانی سے نہیں کیا جا سکتا ،اگر اسے نکالتے ہیں تو اس کے بدلے ایک انتہائی آدمی امریکا سے باہر کر دیا جائے گا ،قید آپ اسے نہیں کر سکتے ،سزا اسے نہیں دے سکتے بھائی آپ کی سلطنت نے اسے تحفظ کا لکھ کر دیا ہے
یہ پاکستانی پولیس نہیں کہ چرس میں اندر کردو ،سمگلنگ ڈال دو ،جعلی اسلحہ ڈال دو اور اندر کر دو ،کسی غیر ملکی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا
پھر کیا حل ہے ،نکال آپ نہیں سکتے ،قید آپ نہیں کر سکتے گولی آپ نہیں مار سکتے ، تو اگر وہ عقل مند ہیں تو کیا اور لوگ نہیں ہو سکتے
پھر اسکے پیچے دو بندے لگا دیئے جاتے ہیں ،وہ جونہی ایمبیسی سے نکلتا ہے
وہ موٹر سائیکل پر اسکے پیچھے ،وہ بندا اپنی تمام چالاکیوں اور ہوشیاری کے باوجود مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے ،اسکے مالک ریزلٹ مانگتے ہیں ،دھماکے کرواؤ ،وہ ہل نہیں سکتا ،جو اسے ملنے جاتا ہے دو بندے اسکے پیچھے لگا دیئے جاتے ہیں ،جس ورکشاب میں بظاہر ایک مستری جو کہ مقامی ہے اور اس کے لیئے کام کرتا ہے
اسے بارودی مواد گاڑی میں فٹ کرنے کے الزام میں اندر کر دیا جاتا ہے ،ہر اسکا مقامی ساتھی یا غائب کر دیا جاتا ہے یا گرفتار
وہ بندہ بلکل پاگل ہو جاتا ہے
اور دو بندوں کو کہا جاتا ہے بس اسے ڈراؤ ،یہ سمجھے کہ یہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں وہ خوف ذدہ ہوکر اور زج ہو کر انہیں قتل کر دیتا ہے ،گرفتار ہوتا ہے ،اسرائیل اور امریکا کو غشی کے دورے پڑتے ہیں ،امریکی صدر ٹی وی پر اسے ڈپلومیث کہتا ہے سارے بیک اور فرنٹ ڈور سارے کھل جاتے ہیں خزانوں کے منہ کھول دیئے جاتے ہیں ،ویسے بھی انکا ایک روپیہ ہمارے 104 کے برابر ہے
جان کیری دوڑتا آتا ہے امریکی جنرل جو افغانستان میں ہے وہ بھاگآ بھاگآ آتا ہے
وہ جاہل جو کہتے ہیں ہم امریکا کے غلام ہیں ،تو آقا غلام کے پاس نہیں آتا علام کو سمن جاری کرتا ہے انٹیلیجنس کا کام انٹیلیجنس والے ہی کرتے ہیں ،کیری کو کہا جاتا ہے سی آئی اے چيف کو بھیجو ،سی آئي اے چيف براسطہ افغانستان آدھی رات کو چکلالہ ایرپورٹ پر اترتا ہے ،ڈی جی آئی ایس آئی سے ملتا ہے
پہلا مطالبہ جتنے ایجنٹ ہیں انکی لسٹ دو ،وہ بہت اوں آن کرتا ہے اور آخر کار 3600 لوگوں کی ایک لسٹ دیتا ہے آپ لوگوں کو یاد ہوگآ زرداری دور میں چار بیریکیں امریکی اسلام آباد کے سفارت خانے میں تعمیر کی گئي تھیں ،پھر امریکا انتنا مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ 3300 لوگ واپس نکالنے پر مجبور ہو جاتا ہے ،انہی دنوں جھنگ باہتر کے قریب ایک پل پر ایک غیر ملکی کالا چٹا پہاڑ کی فوٹو گرافی کر رہا ہوتا ہے جسے سنائپر گولی مار دیتا ہے ایک کہوٹہ کے پاس قتل کر دیا جاتا ہے امریکا مذید دباؤ میں آ جاتا ہے
امریکا فوجی ،مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے پاؤں پکڑتا ہے
فوجی قیادت کہتی ہے ہمیں ایف سولہ کیلئے نائٹ ٹارگٹ کو ہٹ کرنے والی کٹس چاہیئے ،امریکا بمشکل مان جاتا ہے ،یاد رہے یہی وہ کٹس تھیں جنہوں نے زیر زمیں بنکر وزیرستان میں تباہ کیئۓ ،اور صفایا کیا ٹی ٹی پی کا ،ایک مسلح گروہ جو امریکا جیسے ملک سے 10 سال میں قابو نہیں آیا ،چند مہینوں ختم کر دیا گيآ
نقد پیسے بھی سی آئی آے نے دیئے جو پھر انہیں کے خلاف استعمال ہوئے
نیوی کیلئے میزائیل ،آرمی کیلئۓ ٹارگٹ ڈیٹکٹرز اور لا تعداد اسلحہ جو صرف ایک جاسوس کے عوض ملا ،یہ سودا پیسوں کیلئۓ نہیں
ہزاروں پاکستانیوں کی جان بھی بچائی گئي ،اس نیٹ ورک ٹوٹنے کے بعد لاہور
میں کوئی بڑا دھماکہ نہیں ہوا
اگر انسانی جان کی قیمت وہ ہے جو تم لوگ لگاتے ہو تو پھر بارڈر سے فوج بھی ہٹا لو کیونکہ وہاں مر جاتے ہیں ،وطن کے بیٹے وطن کیلئے قربانی دیتے ہیں
جن دو نے قربانی دے کر ہزاروں کی جان بچائی وہ ہیرو ہیں
وطن کے سپاہی وطن کی امانت ہوتے ہیں
انٹیلیجنس میں ایک جان دے کر سینکڑوں جانیں بچائی جاتی ہیں

اسلام علیکم،
 دوستو اب وقت آگیا ہے کہ فیس بک کو بند کر دیں اور پاکستان کا اسلامک سوشیل میڈیا جوائن کریں.
 اس میں یہ صرف مسلمانوں کا سوشیل میڈیا ہے جس کی آپ کو ضرورت ہے اور اس پر کیسی کی جرات نھیں کہ وہ اسلام کے خلاف کوئی بات کرے اس کا سب سے زیادہ فائدا ھم پاکستانی عوام کو ہے اورسب سے بڑی بات ہے ہے کہ یہاں آپ کو اپنا  ٹائم لگانے کے پیسے ملتے ہیں مطلب اگر آپ کو کوئی پوسٹ اچھی لگتی ہے اور آپ اس کو لائک کرتے ہیں تو سوشیوآن
اس کے بدلے اپکوپیسے دیتا ھے تو جلدی سے جلد سوشیوآن جوائن کریں اور اس سے فائدا حاصل کریں


سوشیوآن پر اپنا اکاونٹ کیسے بنائیں:-

اسلام و علیکم سب سے پھلے آپ اس
لنک پر کلک کریں گے جوائن کریں یہاں سے
اور تصویر کے حصاب سے سٹینگ کریں


سب سے پہلے اپنا اصل نام لکھیں.

پھر اپنا ورکنگ جی میل آئی ڈی لگائیں
پھر اپنا پاسورڈ بنائیں
پھر سہی ڈیٹ آف برتھ
پھر میل / فی میل سلکٹ کریں
پھر آپ سائن اپ پر کلک کریں
اس کے بعد
یہ پیج سامنے آئے گا



اس میں کنٹری سلکٹ کریں
اپنا موبائل نیٹ ورک سلکٹ کریں
اور پھر اپنا نمبر لیکھیں
اور نکسٹ کر دیں
پھر اس پیج پر


اس پیج میں جو ویرفکیشن کوڈ آپ کو 
سوشیوآن کی طرف سے آپ کے نمبر پر ملا 
ھوگا وہ لیکھکر نیکسٹ کر دیں 
اب آپ اپنے جی میل میں جا کے 
سوشیوآن کا میل چیک کریں اس میں
ویری فیکیشن لنک میلے گا اس پر کلک کریں 
آپ کا اکاؤنٹ تیار ہے



برصغیر پاک و ہند کی
 معروف مذہبی و روحانی شخصیت
حضرت پیر جماعت علی شاہؒ
نے ایک بار قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو
قرآن پاک، جائے نماز اور تسبیح
تحفے میں بھیجی ۔



قائداعظم محمد علی جناحؒ نے نہایت ادب اور محبت سے یہ تینوں تحفے وصول اور قبول کئے ۔

بانی پاکستان نے تحفوں کے جواب میں ایک خط حضرت پیر جماعت علی شاہؒ کو تحریر کیا۔

خط میں بانی پاکستان نے پیر صاحبؒ تحفہ
بھیجنے پر شکریہ ادا کیا اور عرض کی کہ
حضورمیں جانتا ہوں کہ آپؒ نے یہ تین مقدس اشیا
تحفے میں مجھے کیوں بھیجی اور ان بھیجی اور
ان کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ آپؒ نے قرآن پاک اس
لیے بھیجا کہ میں پڑھ کر اللہ کے احکامات کو
جانوں اور اسے نافذ کروں، اور جائے نماز اس لیے
بھیجا کہ جو آدمی اللہ کی اطاعت نہ کرے اس
کی اطاعت اس کی قوم بھی نہیں کرتی، اور
تسبیح اس لیے بھیجی کہ میں آقا دو عالم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجوں کہ جو درود
شریف نہیں پڑھتا اس پر اللہ کی رحمت نہیں
ہوتی۔خط حضرت پیر جماعت علی شاہ ؒ کو
موصول ہوا ۔ آپ ؒ نے بانی پاکستان کا خط کھولا
اور پڑھنا شروع کر دیا۔

خط پڑھنے کے بعد حضرت پیر جماعت علی شاہ ؒنے فرمایا۔ اللہ کی قسم ، محمد علی جناح اللہ کے ولی ہیں۔ اسے کیسے پتہ لگا کہ یہ تحفے میں نے اسی نیت سے بھیجے ہیں۔

حضرت پیر سید جماعت علی شاہ اپنے دور کے بہت نیک سیرت اللہ کے بندوں میں شمار ہوتے تھے انہوں نے ایک دفعہ کہا کہ محمد علی جناح اللہ کا ولی ہے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آپ اس شخص کی بات کر رہے ہیں جو دیکھنے میں گورا یعنی انگریز نظر آتا ہے اور اس نے داڑھی بھی نہیں رکھی ہوئی۔ تو امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا ’’ کہ تم اس کو نہیں جانتے وہ ہمارا کام کر رہا ہے‘‘۔ پیر صاحب کے اس دور میں تقریبا 10 لاکھ مرید تھے۔ آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ اگر کسی نے مسلم لیگ اور قائداعظم کو ووٹ نہ دیا۔ وہ میرا مرید نہیں۔

مرنے سے پہلے آپ نے اپنے ڈاکٹر سے کہا ’’ کہ پاکستان ہرگز وجود میں نہ آتا اگر اس میں فیضان نبوی ﷺ شامل نہ ہوتا ‘‘


آخر میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ایک قول جو انہوں نے قائداعظم کے لئے کہا
"محمد علی جناح کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ شخص خیانت کر سکتا ہے‘‘
۔(ماخوذ حیات قائد اعظم ۔وقائد و مسلک قائد اعظم علیہ الرحمہ )



اللہ عزوجل قائداعظم محمد علی جناح پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین

شہادت سے پہلے 400 دہشتگردوں کا مقابلہ، پاک فوج کا ایسا شہید افسرجو آج بھی اپنی والدہ سے باتیں کرتا ہے، دنیا کی عسکری تاریخ میں نیا باب رقم کرنیوالے میجر واصف حسین شاہ شہید کی شہادت کا ایسا واقعہ جو آپ کے خون میں بجلیاں بھر دیگا


شہادت ہے مطلوب مقصود مومن ، نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی۔ علامہ اقبال نے شہادت کی خواہش کو اتنے خوبصورت انداز میں نہایت جامعہ انداز میں بیان کر کے دنیا پر شہادت کے شوق کی ایسی تصویر کشی کر دی ہے کہ رہتی دنیا تک لوگ شہادت کی تمنا کو اقبال کے اس شعر سے سمجھتے رہیں گے۔ وطن عزیز پاکستان پر جب دہشتگردی کی آسیب نےپنجے گاڑے تو وطن کی مٹی میں کچھ آشفتہ سر میدان میں آئے اور اس مملکت خداداد کی حفاظت کیلئے اپنا کل ہم لوگوں کے آج پر نچھاور کرتے ہوئے شہید
سے کئے گئے رب تعالیٰ کے حسین وعدوں کے سپرد کر دیا۔ انہی آشفتہ سروں میں ایک مانسہرہ کی غیور دھرتی کا سپوت میجر واصف حسین شاہ بھی تھا۔ خانوادہ اہل بیت ؓ سے تعلق رکھنے والا پاک دھرتی کا یہ سپوت میدان میں اترا تو اس کے خون میں علیؓ کی شجاعت بھی دوڑ رہی تھی اور حسینؓ کی قربانی کا جذبہ بھی۔ اپنے عظیم اسلاف کے کارناموں کو دیکھتے ہوئے میجر واصف حسین شاہ شہید نے وہ کارنامہ سر انجام دے دیا جودنیا کی عسکری تاریخ لکھنے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال گیا۔ یہ 15اکتوبر 2014کا دن تھا۔ میجر واصف حسین شاہ شہید اپنے 4جوانوں کے ہمراہ دشمن کے نرغے میں تھے۔ دشمن بھی پانچ یا دس نہیں بلکہ 400کے قریب دہشتگردوں گیڈروں کے غول نے شیروں کو گھیر رکھا تھا۔ پھر وہ معرکہ عسکری تاریخ میں رقم ہوا کہ دنیا ورطہ حیرت میں مبتلا ہو گئی۔ میجر واصف حسین شاہ شہید اور ان کے 4جوان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ دور سے دیکھنے پر ایسے معلوم ہوتا تھا کہ دو طاقتور فوجیں پوری قوت سے آپس میں ٹکرا گئی ہیں مگر ایک طرف صرف 4اور دوسری جانب 400کا لشکر تھا۔میجر واصف حسین شاہ شہید اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے اور دشمن پر بڑھ چڑھ کر حملہ کرتے، وہ کبھی ایک جانب چاروں ساتھیوں کو لیکر ہلہ بول دیتے تو کبھی دوسری جانب ، دشمن بوکھلا گیا ، میجر واصف حسین شاہ شہید کامیاب ہو چکے تھے وہ دشمن کو باور کراچکے تھے کہ اس کا مقابلہ چار سے نہیں بلکہ اپنی تعداد کے برابر حریف سے ہے۔ کئی گھنٹے مقابلہ جاری رہا بالآخر دشمن نےآخری ہلہ بول کر پسپا ہونے کا ارادہ کر لیا۔ اس دوران میجر واصف حسین شاہ شہید کی کمان میں ان کے ساتھی دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے تھے ۔ میجر واصف حسین شاہ شہید سمجھ چکے تھے دشمن پسپا ہونے سے قبل زبردست حملہ کرنے پر آچکا ہے ۔ وہ بھی فیصلہ کر چکے ، آخری فیصلہ۔ انہوں نے نہ صرف اس حملے کو پسپا کرنے بلکہ دشمن کو مزید نقصان پہنچانے کی ٹھان لی تھی ۔400سو دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والے نے دشمن کے چھکے چھڑا دئیے اور پھر خدا کا وعدہ آن پہنچا۔ میجر واصف حسین شاہ کو شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز کرنیکا حکم۔ وطن کے عظیم سپوت نے بہادری، شجاعت کی ایسی داستان رقم کر دی تھی کہ رہتی دنیا تک بزدل دشمن اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہو چکا تھا۔ میجر واصف حسین شاہ نے جان جانِ آفرین کے سپرد کیاور شہادت کے عظیم مرتبے کو پا لیا۔ مانسہرہ کے نواحی علاقے شیخ آباد میں آپ کی تدفین ہوئی۔ پاک فوج نے اپنے اس بہادر سپوت کو ستارہ بسالت سے نوازا اور آج 6ستمبر 2018کے موقع پر پوری قوم اپنے شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی عظیم قربانیوں پر ان کے اہل خانہ کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے۔پاکستان کے ایک مؤقر اخبار سے بات کرتے ہوئے میجر واصف حسین شاہ شہید کےوالد ارشاد حسین شاہ کا کہنا ہے کہ بحیثیت انسان اولاد کا دکھ ضرور ہوتا ہےمگر میرے بیٹےنے جو کارنامہ پاکستان کے لئے،اس ملک کے عوام کے لئے اور امن کے لئے سر انجام دیا ہے میں اسےسلیوٹ کرتا ہوں۔میجر واصف کی شجاعت کے اعتراف میں بیدڑہ روڈ کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے۔ میجر واصف کی یادوں کو سینے سے لگائے والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد شہید بیٹےکی موجودگی کو بار بار محسوس کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کے پاس ہےبہت خوش ہے، میری بچی کے خواب میں آیا اور کہا امی جان کو بولیں پریشان نہ ہوں میں انکے پاس ہوں اور میں نے جو کام کیا ہے انکی اور والد کی عزت کے لئے کیا ہے۔میجر واصف اور ان جیسے سیکڑوں جوانوں کی شہادت اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان کے فرزند ارض پاک پر جان قربان کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔

پاک فوج زندہ باد


کرتارپور گردوارہ پاکستان میں انڈیا سے تین کلو میٹر دور ایک ایسا تاریخی گردوارہ ہے جسے سکھوں کے نزدیک وہی مقام حاصل ہے جو
مسلمانوں میں مدینہ منورہ کو ہے۔ کرتارپور میں بابا گرو نانک جی نے اپنے آخری سترہ سال چار ماہ گزارے یہاں کھیتی کی عملی نظم و

ضبط قائم کیا اور جو یہاں آپ نے جیسی ترتیب بنادی سکھ مذہب آج تک اسی پر قائم ہے۔
اسی مقام پر بابا جی کا انتقال ہوا اسی مقام پر تاریخی واقعہ ہوا کہ جب باباجی کا انتقال ہوا تو مسلمانوں نے کہا کہ بابا جی مسلمان ہیں اس لئے ہم انہیں دفنائیں گے جبکہ سکھوں کا کہنا تھا کہ وہ نزرِ آتش کریں گے پھر یہ ہوا کہ دونوں بحث و تکرار میں رہے جب دونوں آپ کی چارپائی کی طرف لپکے اور چادر اٹھائی تو وہاں پھول تھے۔ ان پھولوں کو مسلمانوں اور سکھوں نے آپس میں تقسیم کیا مسلمانوں نے انہیں دفنایا اور سکھوں نے جلایا۔
پاکستان سے تین کلومیٹر دور انڈیا نے اس مقام کو زیارت کے لئے دوربین لگائی ہوئی ہے وہاں سکھ آتے ہیں اور دور سے دوربین سے زیارت کرتے ہیں جب موسم صاف نہ ہو تو کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔ اسی مقام پر بی ایس ایف نے چندے کی سہولت بھی دی ہوئی ہے جو وہاں گلے میں لوگ ڈالتے ہیں۔


When it comes to making money from a blog, AdSense is one of the best blog monetization programs available.
I have already shared my AdSense earnings for the last five years, which will give you an idea of how much you can potentially earn from AdSense.
Creating an AdSense account and getting approval is not a particularly easy process, especially for a newbie blogger. The real problem emerges when Google bans your AdSense account!
A good solution is to start looking for some of the best Google AdSense alternatives.
The AdSense alternative ad networks mentioned below are not necessarily better than Google AdSense, but depending on your blog niche and site’s traffic, a few AdSense alternative programs (like Media.netor Viglink) might give you better earnings and results than AdSense.
You should be aware that Google AdSense is a contextual ad networking program while a few of the AdSense alternatives mentioned below are not contextual ad programs. For example, BuySellAds offers a direct advertisement platform, Infolinks is an in-text link program, and Viglink turns your outbound links into affiliate links.
Also read:
We have already talked about why AdSense is the best advertisement program for bloggers, and we followed up with a post on Google AdSense in the budding blogger’s blog.
Getting Google AdSense approval is a dream for bloggers. But if you fail to get approval or get rejected for some reason, don’t despair, because this article will make you aware of many Google AdSense alternatives for you to use to earn money online.
(Before choosing an alternative to Google AdSense, however, check out what kind of traffic you are generating on your blog.)

Best Alternative to Adsense: 2018 Edition

Program Name
Minimum Payout
Ad Type
Payout method
Sign up link
Media.net
$100
Display ad
Text ads
PayPal
WireTransfer
Amazon Display ads
CPM Ad (Display ad)
Wire transfer
Amazon Gift cards 
Payoneer
Adversal
$20
Display ads
Paypal
Wire-transfer
ACH
Viglink
$10
Text ads (Affiliate ads)
PayPal
Skimlinks
$10
Text ads (Affiliate ads)
PayPal
Note: I am continually updating this list with all the new monetization methods that I use as an AdSense alternative. So bookmark this page and keep coming back to learn about more new blog monetization programs.
Media.net is the best alternative to AdSense in terms of ad types.
Media.net is a contextual ad network by Yahoo! and Bing, and it offers high-paying ads. Moreover, the ad types involved are similar to AdSense, and if you have a quality blog, you are more likely to get Media.net approval in no time.
Add caption
PropellerAds is one of the top performing ad network and something I love because of their technology innovation. Apart from all usual ad types, recently they added web push notifications ad type.
Depending upon kind of blog that you have, you can pick from various ad types offered by PropellerAds. Be it for your desktop site, mobile site or for video content.  Minimum payout is $25 and it’s idle for every new and medium size blogs with low or high traffic.
This is a good alternative to AdSense which pays really high.


Make Money with Amazon Native Shopping Ads
Seeing an Amazon advertisement program listed as an “AdSense alternative” might be a little surprise for many, but in 2018 they are one of the most popular choices among bloggers for site monetization.
Until recently, it was only the Amazon Affiliate program, but with Amazon Native Shopping Ads & CPM based ads, they are a great choice for users who are looking for something other than AdSense.
In my opinion, the Amazon display program is ideal for those who have US & EU traffic. Native Ads in particular is a bit like affiliate marketing on steroids.
Adversal contextual ads
Adversal offers features similar to Superlinks, but you need to have monthly page-views of 50,000 to apply.
Minimum payout is $20, and after 35 days, you get paid at the end of the month.
Payment modes are PayPalwire transfer, and ACH. It takes 3-4 days to get your application approved.
I suggest that you apply for both Superlinks and Adversal. Superlinks ads will pay more, but it is also good to have another alternative option.
Viglink AdSense alternative
Viglink is perfect for a blog which is linking out to a business or e-commerce site.
The Viglink concept is quite different from all of the alternatives mentioned above because with Viglink you earn money by making affiliate sales.
Viglink works great when you have outgoing links to business or product pages such as a fashion store or Amazon.
Even if you don’t have outbound links but you are using money-related terms like Apple, iPhone, etc., Viglink will automatically add links to these words, and you will end up making pretty decent money.
What’s best about Viglink is that it’s incubated by Google and is a very SEO-friendly ad program.
skimlinks ads dashboard
Skimlinks is the best alternative to Viglink and it works in a similar manner.  Skimlinks converts your outbound links into affiliate links, and you earn money whenever a sale occurs.
It is possible that you could end up making ten times your existing earnings with Viglink and Skimlinks, as they pay for affiliate sales and not for clicks.

These are just some of the best and most popular alternatives to AdSense.
If your AdSense account is disabled, the best way to cover the lost AdSense earnings potential is by using a combination of two or more ad networks. (For example: using Media.net or Viglink along with contextual ads.)
Which one of the above methods have you used and which ad program worked the best?  Tell us in the comments!

Author Name

[Story][hot]

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.