کرتار پور گردواراہ


کرتارپور گردوارہ پاکستان میں انڈیا سے تین کلو میٹر دور ایک ایسا تاریخی گردوارہ ہے جسے سکھوں کے نزدیک وہی مقام حاصل ہے جو
مسلمانوں میں مدینہ منورہ کو ہے۔ کرتارپور میں بابا گرو نانک جی نے اپنے آخری سترہ سال چار ماہ گزارے یہاں کھیتی کی عملی نظم و

ضبط قائم کیا اور جو یہاں آپ نے جیسی ترتیب بنادی سکھ مذہب آج تک اسی پر قائم ہے۔
اسی مقام پر بابا جی کا انتقال ہوا اسی مقام پر تاریخی واقعہ ہوا کہ جب باباجی کا انتقال ہوا تو مسلمانوں نے کہا کہ بابا جی مسلمان ہیں اس لئے ہم انہیں دفنائیں گے جبکہ سکھوں کا کہنا تھا کہ وہ نزرِ آتش کریں گے پھر یہ ہوا کہ دونوں بحث و تکرار میں رہے جب دونوں آپ کی چارپائی کی طرف لپکے اور چادر اٹھائی تو وہاں پھول تھے۔ ان پھولوں کو مسلمانوں اور سکھوں نے آپس میں تقسیم کیا مسلمانوں نے انہیں دفنایا اور سکھوں نے جلایا۔
پاکستان سے تین کلومیٹر دور انڈیا نے اس مقام کو زیارت کے لئے دوربین لگائی ہوئی ہے وہاں سکھ آتے ہیں اور دور سے دوربین سے زیارت کرتے ہیں جب موسم صاف نہ ہو تو کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔ اسی مقام پر بی ایس ایف نے چندے کی سہولت بھی دی ہوئی ہے جو وہاں گلے میں لوگ ڈالتے ہیں۔


Labels: ,

Post a Comment

[blogger][disqus][facebook][spotim]

Author Name

[Story][hot]

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.