Articles by "Islam"

Showing posts with label Islam. Show all posts

12:11 am


بعض لوگ اہلبیت اطہار رضی ﷲ عنہ کی شان اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جیسے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ سے ان کی مخاصمت اور لڑائی تھی یونہی اس کے بالعکس بعض لوگ شان صحابہ اسی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ اور اہلبیت اطھار رضی اﷲ عنہ کے درمیان بیحد محبت تھی ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی فضلیت پر احادیث بیان کرتے ہیں ۔

جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول اﷲ ﷺ کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں‘ فاطمہ رضی اﷲ عنہا۔

پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا؟ فرماتی ہیں‘ اْن کے شوہر یعنی حضرت علی رضی اﷲ عنہ۔ (ترمذی)

اسی طرح جب سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول اﷲ ﷺ کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا؟ تو آپ فرماتی ہیں‘ عائشہ رضی اﷲ عنہا۔

پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا؟ تو آپ فرماتی ہیں‘ ان کے والد حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ۔ (بخاری)

اگر خدانخواستہ انکے درمیان کوئی مخاصمت یا رنجش ہوتی تو وہ ایسی احادیث بیان نہ کرتے۔ ایسی کئی احادیث اس کتاب میں پہلے بیان کی جا چکی ہیں‘ مزید چند احادیث سپرد قلم و قرطاس ہیں۔

سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ و سیدنا علی رضی اﷲعنہ کی باہم محبت

حضرت ابوبکر اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ درمیان کس قدر محبت تھی‘ اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے کیجیے۔ قیس بن ابی حازم رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے پوچھا‘ آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ ’’ میں نے آقا ومولیٰ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پل صراط پر سے صرف وہی گزر کر جنت میں جائے گا جس کو علی وہاں سے گزرنے کا پروانہ دیں گے۔‘‘

اس پر سیدنا علی رضی اﷲ عنہ ہنسنے لگے اور فرمایا‘ اے ابوبکر ! آپ کو بشارت ہو۔ میرے آقا ومولیٰ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ (اے علی!) پل صراط پر سے گزرنے کا پروانہ صرف اسی کو دینا جس کے دل میں ابوبکر کی محبت ہو۔(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ج۲:۵۵ امطبوعہ مصر،چشتی)

سیدنا علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ ایک دن مشرکین نے رسول کریم ﷺ کو اپنے نزغہ میں لے لیا۔ وہ آپ کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم رہی ہو جو کہتا ہے کہ ایک خدا ہے۔ خدا کی قسم ! کسی کو ان مشرکین سے مقابلہ کی جرأت نہیں ہوئی سوائے ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے۔ وہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مارمار کر اوردھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے اور فرماتے جاتے‘ تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخض کو ایذا پہنچا رہے ہو جو کہتا ہے کہ’’ میرا رب صرف اﷲ ہے۔‘‘ یہ فرما کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی ترہو گئی۔

پھر فرمایا ‘ اے لوگو! یہ بتاؤ کہ آل فرعون کا مومن اچھا تھا یا ابوبکر رضی اﷲ عنہ اچھے تھے؟ لوگ یہ سن کر خاموش رہے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے پھر فرمایا‘ لوگو! جواب کیوں نہیں دیتے۔ خدا کی قسم ! ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی زندگی کا ایک لمحہ آلِ فرعون کے مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر اور برتر ہے کیونکہ وہ لوگ اپنا ایمان ڈر کی وجہ سے چھپاتے تھے اور ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا۔ (تاریخ الخلفاء ۱۰۰)

حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے پاس سے گزرا اور وہ صرف ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے تھے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر بے ساختہ میری زبان سے نکلا‘ کوئی صحیفہ والااﷲ تعالٰی کو اتنا محبوب نہیںجتنا یہ کپڑا اوڑھنے والا اﷲ تعالٰی کو محبوب ہے۔ (تاریخ الخلفاء: ابن عساکر)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علیرضی اﷲ عنہ آئے اور سلام کر کے کھڑے ہوگئے۔ حضور منتظر رہے کہ دیکھیں کون ان کے لئے جگہ بناتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ آپ کی دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ اپنی جگہ سے اْٹھ گئے اور فرمایا‘ اے ابوالحسن ! یہاں تشریف لے آئیے۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ‘ حضور ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے درمیان بیٹھ گئے۔ اس پر آقا ومولٰی ﷺ کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا‘ ’’اہل فضل کی فضلیت کو صاحب فضل ہی جانتا ہے۔‘‘ اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ عنہ کی بھی تعظیم کیا کرتے۔ (الصواعق المحرقتہ: ۲۶۹)

ایک روز حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرما تھے کہ اس دوران امام حسن رضی اﷲ عنہ آگئے جو کہ اس وقت بہت کم عمر تھے۔ امام حسن رضی اﷲ عنہ کہنے لگے‘ میرے بابا جان کے منبر سے نیچے اتر آئیے۔ سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ ’’ تم سچ کہتے ہو۔ یہ تمہارے باباجان ہی کا منبرہے۔‘‘ یہ فرما کر آپ نے امام حسن رضی اﷲ عنہ کوگود میں اٹھا لیا اور اشکبار ہوگئے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا‘ خدا کی قسم! میں نے اس سے کچھ نہیں کہا تھا۔
سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : آپ سچ کہتے ہیں‘ میں آپ کے متعلق غلط گمان نہیں کرتا۔(تاریخ الخلفاء: ۱۴۷‘ الصواعق: ۲۶۹)

ابن عبدالبررحمہ اﷲ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ اکثر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھا کرتے۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا‘ میں نے آقا و مولٰی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی رضی اﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔(الصواعق المحرقتہ: ۲۶۹،چشتی)

ایک روز سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ تشریف فرماتھے کہ سیدنا علی رضی اﷲ عنہ آگئے۔ آپ نے انہیں دیکھ کر لوگوں سے فرمایا‘ جو کوئی رسول کریم ﷺ کے قریبی لوگوں میں سے عظیم مرتبت‘ قرابت کے لحاظ سے قریب تر‘ افضل اور عظیم تر حق کے حامل شخص کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے وہ اس آنے والے کو دیکھ لے۔ (الصواعق المحرقتہ:۲۷۰‘ دار قطنی)

سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے سب سے زیادہ بہادر ہونے سے متعلق سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کا ارشاد پہلے تحریر ہو چکا‘ اگر انکے مابین کسی قسم کی رنجش ہوتی تو کیا یہ دونوں حضرات ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے؟ یہ احادیث مبارکہ ان کی باہم محبت کی واضح مثالیں ہیں۔

سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ و سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کی باہم محبت

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ دورِفاروقی میں مدائن کی فتح کے بعد حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے مسجد نبوی میں مال غنیمت جمع کر کے تقسیم کرنا شروع کیا۔ امام حسن رضی اﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں ایک ہزار درہم نذر کیے۔پھر امام حسین رضی اﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں بھی ایک ہزار درہم پیش کیے۔ پھر آپ کے صاحبزادے عبداﷲ رضی اﷲ عنہ آئے تو انہیں پانچ سودرہم دیے۔ انہوں نے عرض کی‘ اے امیرالمٔومنین ! جب میں عہد رسالت میں جہاد کیا کرتا تھا اس وقت حسن و حسین بچے تھے۔ جبکہ آپ نے انہیں ہزار ہزار اور مجھے سو درہم دیے ہیں۔

حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ تم عمر کے بیٹے ہو جبکہ ان والد علی المرتضٰی‘ والدہ فاطمۃ الزہرا‘ نانا رسول اﷲ ﷺ‘ نانی خدیجہ الکبریٰ‘ چچا جعفر طیار‘ پھوپھی اْم ہانی‘ ماموں ابراہیم بن رسول اﷲﷺ‘ خالہ رقیہ و ام کلثوم و زینب رسول کریم ﷺکی بیٹیاں ہیںرضی اﷲ عنہ۔ اگر تمہیں ایسی فضیلت ملتی تو تم ہزار درہم کا مطالبہ کرتے۔ یہ سن کر حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ خاموش ہو گئے۔

جب اس واقعہ کی خبر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کوہوئی تو انہوں نے فرمایا‘ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ’’عمر اہل جنت کے چراغ ہیں۔‘‘ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا یہ ارشاد حضرت عمر رضی اﷲ عنہ تک پہنچا تو آپ بعض صحابہ کے ہمراہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے گھر تشریف لائے اور دریافت کیا‘ اے علی! کیا تم نے سنا ہے کہ آقاو مولی ﷺ نے مجھے اہل جنت کا چراغ فرمایا ہے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ ہاں! میں نے خود سنا ہے۔

حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ اے علی! میری خواہش ہے کہ آپ یہ حدیث میرے لیے تحریر کردیں۔ سیدنا علی رضی اﷲ عنہ نے یہ حدیث لکھی : یہ وہ بات ہے جس کے ضامن علی بن ابی طالب ہیں عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے لئے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا‘ اْن سے جبرائیل علیہ السلام نے‘ اْن سے اﷲ تعالٰی نے کہ:ان عمر بن الخطاب سراج اھل الجنۃ ۔ ترجمہ : عمر بن خطاب اہل جنت کے چراغ ہیں ۔ سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کی یہ تحریر حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے لے لی اور وصیت فرمائی کہ جب میرا وصال ہو تو یہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا۔ چنانچہ آپ کی شہادت کے بعد وہ تحریر آپ کے کفن میں رکھ دی گئی۔(ازالتہ الخفاء، الریاض النضرۃ ج ا:۲۸۲)

اگران کے مابین کسی قسم کی مخاصمت ہوتی تو کیا دونوں حضرات ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے ؟ یہ واقعہ ان کی باہم محبت کی بہت عمدہ دلیل ہے ۔

دارقطنی رحمہ اﷲ نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے کوئی بات پوچھی جس کا انہوں نے جواب دیا۔ اس پر حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ اے ابوالحسن! میں اس بات سے اﷲ تعالٰی کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں میں رہوں جن میں آپ نہ ہوں۔
(الصواعق المحرقتہ: ۲۷۲)

اس واقعہ سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عمررضی اﷲ عنہ کو حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے کس قدر محبت تھی

حضرت عمررضی اﷲ عنہ امورِ سلطنت کے وقت کسی سے نہیں ملے تھے۔ آپکے صاحبزادے عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نے ملاقات کی اجازت طلب کی تو نہیں ملی۔ اس دوران امام حسن رضی اﷲ عنہ بھی ملاقات کے لیے آگئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی اﷲ عنہ کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی اجازت نہیں ملے گی۔ یہ سوچ کر واپس جانے لگے ۔ کسی نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو اطلاع کر دی تو آپ نے فرمایا‘ انہیں میرے پاس لاؤ۔ جب وہ آئے تو فرمایا‘ آپ نے آنے کی خبر کیوں نہ کی؟ امام حسنرضی اﷲ عنہ نے کہا‘ میں نے سوچا‘ بہت بیٹے کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی نہیں ملے گی ۔ آپ نے فرمایا‘ وہ عمر کا بیٹا ہے اور آپ رسول اﷲﷺ کے بیٹے ہیں اس لیے آپ اجازت کے زیادہ حقدار ہیں۔ عمررضی اﷲ عنہ کو جو عزت ملی ہے وہ اﷲ کے بعد اسکے رسول اﷲ رضی اﷲ عنہ اور اہلبیت کے ذریعے ملی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آئندہ جب آپ آئیں تو اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں۔ (الصواعق المحرقتہ: ۲۷۲،چشتی)

ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں جس سے سیدنا عمرو علی رضی اﷲ عنہ میں محبت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ حضرت ابوبکررضی اﷲ عنہ جب شدید علیل ہو گئے تو آپ نے کھڑکی سے سر مبارک باہر نکال کر صحابہ سے فرمایا‘ اے لوگو! میں نے ایک شخص کو تم پر خلیفہ مقرر کیا ہے کیا تم اس کام سے راضی ہو؟

سب لوگوں نے متفق ہو کر کہا‘ اے خلیفئہ رسول ﷺ! ہم بالکل راضی ہیں۔ اس پر سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا‘وہ شخص اگر عمر رضی اﷲ عنہ نہیں ہیں تو ہم راضی نہیں ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ بیشک وہ عمر ہی ہیں ۔ (تاریخ الخلفاء:۱۵۰‘ عساکر)

اسی طرح امام محمد باقر رضی اﷲ عنہ حضرت جابر انصاری رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وصال کے بعد حضرت عمررضی اﷲ عنہ کو غسل دیکر کفن پہنایا گیاتو حضرت علی رضی اﷲ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے‘ ان پر اﷲ تعالٰی کی رحمت ہو‘ میرے نزدیک تم میں سے کوئی شخص مجھے اس (حضرت عمررضی اﷲ عنہ) سے زیادہ محبوب نہیں کہ میں اس جیسا اعمال نامہ لیکر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں۔(تلخیص الشافی:۲۱۹‘ مطبوعہ ایران)

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات میں کس قدر پیار و محبت تھی۔ اور فاروقی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ جب ایک حاسد شخص نے حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ عنہ سے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی متعلق سوال کیا تو آپ نے ان کی خوبیاں بیان کیں پھر پوچھا‘ یہ باتیں تجھے بری لگیں؟ اس نے کہا‘ ہاں ۔ آپ نے فرمایا‘ اﷲ تعالٰی تجھے ذلیل و خوار کرے۔ جادفع ہو اور مجھے نقصان پہنچانے کی جو کوشش کر سکتا ہو کر لے۔ (بخاری باب مناقب علی)

حضرت عمررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا‘ ’’قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سواہر سلسلۂ نسب منقطع ہو جائے گا’’۔ اسی بنا پر سیدنا عمررضی اﷲ عنہ نے سیدنا علی رضی اﷲ عنہ سے انکی صاحبزادی سیدہ اْم کلثوم رضی اﷲ عنہا کا رشتہ مانگ لیا۔ اور ان سے آپ کے ایک فرزند زیدرضی اﷲ عنہ پیدا ہوئے۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا یہ ارشاد بھی قابلِ غور ہے‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ جب تم صالحین کا ذکر کرو تو حضرت عمررضی اﷲ عنہ کو کبھی فراموش نہ کرو۔‘‘ (تاریخ الخلفاء: ۱۹۵)

سیدنا علی رضی اﷲ عنہ اور عظمت شیخین رضی اللہ عنہما

سیدنا علی رضی اﷲ عنہ اور حضرات شیخین رضی اﷲ عنہا ایک دوسرے کی خوشی کو اپنی خوشی اور دوسرے کے غم کو اپنا غم سمجھتے تھے۔ شعیہ عالم ملا باقر مجلسی نے جلا ء العیون صفحہ ۱۶۸ پر لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو نبی کریم ﷺ سے سیدہ فاطمہ کا رشتہ مانگنے کے لیے حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہ نے قائل کیا۔ اسی کتاب میں مرقوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہ کی شادی کے لیے ضروری سامان خریدنے کے لیے سیدبا ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو ذمہ داری سونپی تھی۔ اس سے معلوم ہواکہ سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو رسول ﷺ کے گھریلو معاملات میں بھی خاص قرب حاصل تھا ۔

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے جسم اقدس کے پاس کھڑا تھا کہ ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آکر میرے کندھے پر اپنی کہنی رکھی اور فرمایا‘ اﷲتعالٰی آپ پر رحم فرمائے! بے شک مجھے امید ہے کہ اﷲتعالٰی آپ کو آپ کے دونوں دوستوں (یعنی حضور اکرم ﷺاور ابوبکر صدیقرضی اﷲ عنہ)کا ساتھ عطا کرے گا کیونکہ میں نے بار ہا رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’میں تھا اور ابوبکر و عمر‘’میں نے یہ کہا اور ابوبکر و عمر نے‘’میں چلا اور ابوبکر و عمر‘’میں داخل ہوا اور ابوبکر و عمر‘’میں نکلا اور ابوبکر و عمر‘۔ (رضی اﷲ عنہا) میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ تھے۔ (بخاری المناقب‘ مسلم کتاب الفضائل الصحابہ،چشتی)

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ رسول کریم ﷺ سے خصوصی قرب ومحبت کے باعث سیدنا ابوبکرو عمر رضی اﷲ عنہ سے دلی محبت رکھتے تھے۔

ایک شخص نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا‘ میں نے خطبہ میں آپ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ’’ اے اﷲ! ہم کو ویسی ہی صلاحیت عطا فرما جیسی تو نے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کو عطا فرمائی تھی‘‘۔ ازراہِ کرم آپ مجھے ان ہدایت یاب خلفائے راشدین کے نام بتا دیں۔ یہ سن کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا : وہ میرے دوست ابوبکر اور عمر رضی اﷲ عنہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک ہدایت کا امام اور شیخ الاسلام تھا۔ رسول کریم ﷺ کے بعد وہ دونوں قریش کے مقتدیٰ تھے‘ جس شخص نے ان کی پیروی کی وہ اﷲ تعالٰی کی جماعت میں داخل ہو گیا۔(تاریخ الخلفاء: ۲۶۷)

یہی واقعہ شیعہ حضرات کی کتاب تلخیص الشافی جلد ۳ صفحہ ۳۱۸ پر امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ نے امام باقر رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں‘ یہ بات صحیح روایات سے ثابت اور تواتر سے نقل ہوتی چلی آئی ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ اپنی خلافت کے زمانے میں اپنے رفقاء کے سامنے حضرت ابوبکرو عمر رضی اﷲ عنہ کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ ان کی افضلیت کو برملا اور علانیہ بیان کرتے رہے ہیں ۔ علامہ ذہبی رحمہ اﷲ نے اسی سے زیادہ حضرات سے صحیح سندوں کے ساتھ ثابت کیا ہے اور صحیح بخاری کے حوالے سے بھی بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ نبی کریم ﷺ کے بعد سب لوگوں سے افضل ترین ابوبکر رضی اﷲ عنہ ہیں پھرعمررضی اﷲ عنہ۔ آپ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ رضی اﷲ عنہ نے کہا‘ پھر آپ؟ تو آپ تو فرمایا‘ میں ایک عام مسلمان ہوں۔ (تکمیل الایمان: ۱۶۶)

سیدنا علی رضی اﷲ عنہ نے انہیں سیدنا ابوبکر و عمررضی اﷲ عنہ سے افضل کہنے والوں کے لیے درّوں کی سزا تجویز فرمائی ہے‘ شعیہ حضرات کی اسماء الرجال کی معتبر کتاب رجال کشی کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔ سفیان ثوری‘ محمد بن سکندر رحہما اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کے منبر پربیٹھے ہوئے دیکھا کہ وہ فرمارہے تھے‘ اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص آئے جو مجھے ابوبکر وعمر رضی اﷲ عنہ پر فضیلت دیتا ہوتو میں اس کو ضرور دْرّے لگائوں گا جو کہ بہتان لگانے والے کی سزا ہے ۔ (تکمیل الایمان: ۱۶۶‘ سنن دارقطنی‘ رجال کشی۳۳۸ مطبوعہ کربلا،چشتی)

شیعوں کی اسی کتاب میں سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کا فتویٰ موجود ہے کہ ’’حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی محبت ایمان ہے اور ان کا بغض کفر ہے۔‘‘ (رجال کشی : ۳۳۸)

پھر اعلی حضرت رحمہ اﷲ فرماتے ہیں‘ محبت علی مرتضٰی رضی اﷲ عنہ کا یہی تقاضا ہے کہ محبوب کہ اطاعت کیجیے (یعنی سیدنا ابوبکروعمر رضی اﷲ عنہ کو ساری امت سے افضل مانیے) اور اْس کو غضب اوراسی کوڑوں کے استحقاق سے بچئے ۔ اعتقادالاحباب:۵۶)

شیعہ حضرات یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ ’’یہ ساری باتیں تقیہ کے طور پر کہی گئی تھیں۔ یعنی حضرت علی رضی اﷲ عنہ حضرات شیخین کی تعریف محض جان کے خوف اور دشمنوں کے ڈر سے کیا کرتے تھے۔ اگر ایسا نہ کرتے تو ان کی جان کو خطرہ تھا مگر دلی طور پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ حضرات شیخین کے خلاف تھے ۔ شعیوں کے اس بیان میں قطعاً کوئی صداقت نہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ جو شیرخدا تھے اور مرکز دائرہ حق تھے‘ اتنے بزدل‘ مغلوب اور عاجز ہو گئے تھے کہ وہ حق بیان کرنے سے قاصر رہے اور ساری زندگی خوف وعجز میں گزار دی‘ پھر اسدْاﷲ الغالب کا لقب کیا معنی رکھتا ہے ؟ ۔ (تکمیل الایمان: ۱۶۷)

سیدنا علی المرتضٰی حیدر کرار رضی اﷲ عنہ سے محبت کا دعویٰ کرنے والے آپ کے یہ ارشاد بھی دل کے کانوں سے سن لیں ۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں‘ رسول کریم ﷺ کے بعد تمام لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہ سب سے بہتر ہیں۔ کسی مومن کے دل میں میری محبت اور ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہ کا بغض کبھی یکجا نہیں ہو سکتے ۔ (تاریخ الخلفاء: ۱۲۲‘ معجم الاوسط)(

صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت

صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت : بالخصوص چاروں خلفاء راشدین اور اہلبیت اس قدر مضبوط و مستحکم، خاندانی و ایمانی رشتوں میں بندھے ہوئے تھے کہ اس تعلق کو کوئی بھی ایک دوسرے سے ختم نہیں کر سکا ۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضور سرور انبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر ہیں۔ کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئی تھیں۔ خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہیں ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں اور خاتون جنت سیدہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں۔ سبحان اللہ !! کیا عالی شان تقسیم ہے کہ دو خلفاء حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر اور دو خلفاء داماد ہیں۔ جب امُ المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں تو ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ حضور کے سسر ہوئے۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی اور حضرت ابو سفیان کے بیٹے) کے بہنوئی ہوئے ۔

حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما چونکہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کی بہنیں تھیں لٰہذا حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی خالہ ہوئیں اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خالو جان ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا چونکہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کے نانا جان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں تھیں تو یہ تینوں مقدس خواتین حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی نانیاں ہوئیں۔ سبحان اللہ !! غور کیجئے صحابہ کرام اور اہلبیت کو اللہ تعالٰی نے کتنی گہری وابستگی عطا فرمائی ہے۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی اور پیغمبر اسلام کی حقیقی نواسی ہیں ۔

امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ ان کی خاندانِ نبوت سے رشتہ داری قائم ہو جائے، چنانچہ آپ نے اپنی اس خواہش کا اظہار حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ کی اس درخواست کو قبول فرما لیا اور اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت زید بن عمر رحمتہ اللہ علیہ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہی کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عمر زیادہ تھی مگر اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی کم عمر بیٹی کا ان سے نکاح کر دیا۔ یہ واقعہ ان اسلام دشمن قوتوں کے لئے عبرت کا تعزیانہ ہے جو بظاہر اہلبیت سے اپنی محبت کا ظاہری دم بھرتے ہیں اور جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں گستاخی کرکے اپنی آخرت کو برباد کرتے ہیں، اور نعوذ باللہ ان پر سب و شتم کر کے اپنے اعمال کو سیاہ اور داغدار کرتے ہیں ۔ کوئی ان ظالموں سے پوچھے اے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی گستاخی کرنے والو ! تمہارا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جنہوں نے بقول تمہارے ایک غاصب، ظالم اور مرتد سے اپنی کمسن صاحبزادی کا نکاح کر دیا ؟ ذرا سوچئے ! اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نعوذ باللہ ظالم ہوتے تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی انہیں دیتے؟ ہرگز نہیں۔۔! مسلمانو ! ابتدائے اسلام ہی سے اسلام دشمن قوتوں نے مسلمانوں کے ذہنوں کو خراب کرنے کے لئے صحابہ کرام اور اہلبیت کے مابین اختلاف ابھارا تاکہ بعد میں آنے والے مسلمانوں کو انتشار کا شکار کر دیا جائے ۔

ان کی یہ کوشش ہوتی کہ جماعتِ صحابہ کی کوئی ایسی بات پکڑی جائے جسے اہلبیت کے خلاف ابھارا جا سکے اور اس طرح اہلبیت کی محبت ظاہر کر کے صحابہ کرام کی توہین کی جا سکے۔ آج بھی یہود و نصارٰی کے آلہ کار اس ناپاک سازش میں مصروف ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان میں گستاخی کرکے اپنے بغض و حسد کی آگ کو ٹھنڈا کر رہے ہیں۔ حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور اہلبیت رضوان اللہ علیھم اجمعین میں کسی نوعیت کا کوئی ذاتی اختلاف نہ تھا۔ وہ تو ایک دوسرے سے رشتے داریاں کرتے، گویا قدرت نے انہیں ایک لڑی میں پرو دیا تھا ۔ اللہ پاک ہمیں سب صحابہ کرام اور تمام اہلبیت رضی اللہ عنہم سے سچی اور حقیقی محبت نصیب فرمائے آمین ۔
(طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

11:35 pm
ضلع تھر پار کر میں ایک بزرگ مستری برکت علی تھےجو لوہار کا کام کرتے تھےایک دن ان کے پاس ایک مرزائاور آتے ہی اس نے مرزا قادیانی کو نبی ماننےاور سچا نبی ہونے پر یقین رکھنے اور پھر اس کے دین میں مستری صاحب کو داخل کرنے کے لیے تبلیغ شروع کر دی۔مستری صاحب اس وقت بیٹھے اپنے ہاتھ سے بنائی ایک کلہاڑی کی دھار تیز کرنے میں مصرو ف تھے۔مرزائی جب تک بولتا رہا یہ کلہاڑی کی دھار تیز کرنے میں مصروف رہے۔ جب دھار خوب تیز ہو گئی تویک دم اٹھے اور کلہاڑی کو اس مرزائی کی
پر رکھ دیا اور کہا:کہو! مرزا قادیانی بےایمان اور جھوٹا تھا اور ایسا ویسا تھا۔مستری صاحب نے جیسے جیسے کہا مرزائی ویسا ہی بولتا رہا۔گویا مستری صاحب نے اس مرزائی سے اقرار کرا لیا۔جب مستری صاحب مطمئن ہو گئے تووہی کلہاڑی اس مرزائی کے ہاتھوں میں تھما کر کہنے لگے۔اب کلہاڑی میری گردن پر رکھو اور مجھ سے کہو کہحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کروں۔اللہ کی قسم!میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤں گامگر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کاتصور بھی نہیں کر سکتا

10:20 pm

کیلیگرافی

آدمی کے دل میں بیٹھی خدا کی محبت اپنا پتہ دیتی ہے:

1۔ جب یہ بستر پر لیٹتا ہے؛ تب جس سے محبت ہو جب تک اسے یاد نہ کر لے آدمی کو نیند نہیں آتی۔

 نیند سے بیدار ہوکر؛ سب سے پہلے آدمی کو محبوب ہی کی یاد آتی اور اُسی کا نام زبان پر اور اُسی کا خیال دل میں آتا ہے۔

3۔ نماز میں داخل ہوتے وقت؛ کہ یہ تو ہے اُس سے ملاقات کی جا۔

4۔ ہول اور پریشانی وقت؛ تب بھی جس سے محبت ہو وہی سب سے پہلے یاد آتا ہے۔

ابن قیمؒ

10:15 pm
اَسرارِ صیام
(اردو استفادہ از امام ابن قدامہ الحنبلیؒ)

جان لو کہ روزہ کے اندر کچھ ایسی خاص بات رکھ دی گئی ہے جو اِس کے سوا کسی اور عمل میں نہیں، اور وہ ہے اِس کو اللہ عزوجل کے ساتھ ایک خاص نسبت ہو جانا، جیسا کہ حدیثِ قدسی میں وارد ہوا ہے (الصوم لی و أنا أجزی بہ)۔ عبادتِ صیام کو بس یہی شرف کافی ہے، ویسے ہی جیسے ”بیت اللہ“ کہلا کر ایک مقام کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ نسبت کا ایک خاص حوالہ حاصل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ”وَطَہِّر بَیتِی´“ یعنی ”میرے“ گھر کو صاف ستھرا کر رکھو!

روزہ کی فضیلت کے پیچھے دو خوبصورت معانی پنہاں ہیں:

ایک یہ کہ یہ ایک راز ہے اور سراسر ایک باطنی عمل۔۔۔۔ جو مخلوق کے احاطۂ نظر میں کبھی آ ہی نہ پائے۔ روزہ کے اِس معنیٰ میں ریا کا کوئی گزر نہیں۔

دوسرا یہ کہ روزہ دراصل دشمنِ خدا کو مقہور کر دینا ہے۔ وجہ یہ کہ دشمنِ خدا کا وہ ہتھیار جو وہ ابنِ آدم کے خلاف بے تحاشا برتتا ہے اِس کی شہواتِ نفس ہیں۔ یہ شہوات و خواہشات انسان میں جہاں سے تقویت پاتی ہیں وہ ہے اِس کے ہاں خورد ونوش کی فراوانی۔ پس جب تک خواہشات کی یہ زمین ہری بھری رہے گی تب تلک شیاطین کا اِس چراگاہ میں آنا جانا بے تحاشا رہے گا۔ اب جب خواہشات و شہوات کو ترک کرایا جائے گا تو شیاطین کی راہیں خود بخود یہاں تنگ ہونے لگیں گی۔

اب ہم اختصار سے روزہ کی کچھ سنتوں کا ذکر کریں گے:

1) سحری کی جانا بے حد پسندیدہ ہے، اور وہ بھی یہ کہ خاصی لیٹ کرکے کی جائے۔ افطار میں خوب جلدی کی جائے، اور یہ کہ کھجور سے کی جائے۔

2) رمضان میں سخاوت بطورِ خاص مستحب ہے۔ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا۔ اچھا اور پسندیدہ بننا، دل کھول کر صدقہ کرنا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں رمضان کے معمولات کی نسبت ہمیں سیرت و احادیث سے معلوم ہے۔

3) رمضان میں قرآن کا طالبِ علم بننا۔ اعتکاف کی صورت خدا کے گھر میں ڈیرے ڈال دینا خصوصا رمضان کی آخری دس راتیں۔ رمضان کے آخری حصہ میں عبادت پر پورا زور صرف کردینا۔

صحیحین میں عائشہؓ کی حدیث ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آپ کمر بستہ ہو جاتے، رات عبادت میں گزارتے اور اہلِ خانہ کو بیدار کرتے۔ علماء نے اِس ’کمر بستہ ہو جانے‘ کے دو معنیٰ بیان کئے ہیں: ایک یہ کہ ازدواجی تعلق سے کنارہ کشی کرلیتے، اور دوسرا یہ کہ یہ کنایہ ہے عمل میں انتہائی حد تک جت جانے کا۔
علماءکا قول ہے کہ آپ کا آخری عشرہ میں عبادت وریاضت پر پورا زور صرف کردینا اس وجہ سے تھا کہ آپ لیلۃ القدر کو پالینے کی سعی فرماتے۔

٭٭٭٭٭٭٭

اب ہم روزہ کے بعض اَسرار اور آداب کا ذکر کریں گے:

روزہ کے تین مراتب ہیں: ایک عوام کا روزہ اور ایک خواص کا روزہ اور ایک خاص الخواص کا روزہ۔

عوام‘ کا روزہ ہے: پیٹ اور شرمگاہ کو اس کی خواہش پورا کرنے سے روک رکھنا۔

خواص‘ کا روزہ ہے: نگاہ، زبان، ہاتھ، پیر، کان، آنکھ اور سب کے سب اعضاءوجوارح کو خدا کی معصیت کے کاموں سے باز کئے رکھنا۔

رہا ’خاص الخواص‘ کا روزہ، تو وہ یہ ہے کہ دل ہی ہر گھٹیا سوچ اور ارادے کے معاملہ میں روزہ دار ہو جائے۔ وہ سب افکار و خیالات جو آدمی کو خدا سے دور کریں یا خدا کی نگاہ میں آدمی کی وقعت کم کردینے والے ہوں آدمی کے ہاں متروک ہو کر رہ جائیں۔ گویا قلب کی دنیا میں آدمی خدا کے سوا دنیا ومافیہا سے روزہ رکھ لے۔ روزہ کے اِس مرتبہ کی شرح و وضاحت کسی اور مقام پر ہوگی۔

رہ گیا دوسرا مرتبہ یعنی ’خواص کا روزہ‘ تو اس کے آداب میں یہ آتا ہے کہ آدمی کی نگاہ روزہ سے ہو جائے اور ہر اُس جانب سے جو خدا نے حرام ٹھہرا دی نگاہ کا رخ پھر جائے۔ زبان کو ہر اُس بات سے جو مخلوق کو اذیت دے یا خالق کے ہاں حرام یا ناپسند ہو، یا حتیٰ کہ جو لایعنی وبے فائدہ ہو۔۔۔۔ زبان کو ایسی ہر بات سے تالا لگ جائے۔ نیز یہ کہ آدمی اپنے سب کے سب اعضاءو جوراح کا پہرہ دار بن کر کھڑا ہو جائے کہ کوئی عضو بھی خدا کی معصیت کا رخ نہ کرپائے۔

بخاری کی روایت میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للہ حاجة فی أن یدع طعامہ وشرابہ ” جو شخص قولِ باطل سے اور اس پر عمل کر گزرنے سے باز نہیں رہتا، اللہ کو یہ حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا ہی چھوڑ کر رہے“ 
مراد یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی پرواہ نہیں، کیونکہ یہ ان باتوں سے تو رک گیا ہے جو روزے کے علاوہ عام حالات میں اس کے لیے بالکل جائز اور روا ہیں البتہ ان باتوں سے روزہ رکھ کر بھی رکنے کا نام نہیں لیتا جن کی کسی بھی وقت اسے اجازت نہیں، اور جو کہ اللہ کی مطلق حرام کردہ باتیں ہیں۔

آدابِ صیام میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ آدمی رات کو کھانے سے پیٹ نہ بھر لے۔ رات کو بھی کھائے تو بس حساب سے۔ کیونکہ، جیسا کہ حدیث میں ہے، ابنِ آدم کا پیٹ وہ بدترین برتن ہے جس کو یہ کناروں تک بھر لیتا ہے۔ ابتدائے شب اگر انسان پیٹ کو کھانے سے پر کر لے تو باقی شب وہ اپنا اچھا استعمال ہرگز نہ کرپائے گا۔ اسی طرح اگر وہ سحری کے وقت شکم سیر ہو جاتا ہے تو ظہر تک وہ خود کو کار آمد نہ رکھ پائے گا۔ کیونکہ بسیار خوری کاہلی اور بے ہمتی کو جنم دیتی ہے۔ نیز روزہ سے جو کوئی مقصود ہے بسیار خوری سے خود اس مقصود ومطلوب پر ہی پانی پھر جاتا ہے۔ روزہ سے مقصود تو یہ ہے کہ انسان بھوک کے تجربے سے گزرے اور ترکِ خواہش کی استعداد پائے۔

٭٭٭٭٭٭٭

جان لو کہ صیامِ نفل یوں تو ہر وقت پسندیدہ ہے، مگر کچھ خاص ایامِ فضیلت میں تو بے حد پسندیدہ اور مستحب ہو جاتا ہے۔ فضیلت کے ایام کچھ تو وہ ہیں جو ہر سال آتے ہیں، جیسے مثلاً رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے، یومِ عرفہ، یومِ عاشوراء، عشرۂ ذو الحج، اور محرم۔ جبکہ کچھ ایام وہ ہیں جو ماہانہ ہیں، جیسے مثلاً مہینے کا یومِ اول اور یومِ وسط اور آخری یوم۔ جو ان تین دنوں کے روزے رکھے وہ خوب ہے۔ البتہ افضل یہ ہے کہ مہینے کے تین دن وہ ایامِ بیض کے کرے، یعنی چاند کے جوبن کے تین ایام روزہ سے رہے۔

جبکہ فضیلت کے کچھ ایام ہفتہ وار ہیں، یعنی سوموار کا روزہ اور جمعرات کا روزہ۔

صیامِ نفل میں افضل ترین صومِ داودؑ ہے: داود علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار۔ صیامِ داودؑ کے افضل ترین ہونے میں تین خوبصورت معانی پوشیدہ ہیں:

ایک یہ کہ نفس کو ایک دن اُس کا حظ ملتا ہے اور ایک دن اُس سے عبادتِ صوم کرائی جاتی ہے۔ یعنی ایک دن اُس کو حق ملتا ہے اور ایک دن اُس سے کام لیا جاتا ہے، جو کہ عدل کی بہترین حالت ہے۔

دوسرا یہ کہ کھانے کا روز روزِ شکر ہے اور اگلا روزے کا دن روزِ صبر۔ جبکہ ایمان کے دو ہی شق ہیں، ایک شکر اور ایک صبر!

تیسرا یہ کہ عام مجاہدہ کی نسبت یہ نفس پر زیادہ شاق ہے۔ کیونکہ جونہی نفس ایک خاص حالت سے مانوس ہونے لگتا ہے اِسے وہاں سے پھیر کر ایک دوسری حالت میں لے آیا جاتا ہے۔ یوں نفس کا یکسانیت سے نکلنا نفس کو عبادت کے خاص معانی سے آشنا کراتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزے ہی رکھتے جانا) کی بابت، مسلم میں ابو قتادہؓ سے مروی ہے، عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاتو آپ نے فرمایا: لا صام ولا أفطر، أو لم یصم ولم یفطر کہ ”نہ اُس کا روزہ اور نہ اُس کا افطار

یہ (صومِ دہر) اس حالت پر محمول ہوگا کہ آدمی لگاتار روزے رکھے اور ممنوعہ ایام تک کے روزے نہ چھوڑے۔ البتہ اگر وہ عیدین اور ایامِ تشریق میں روزہ رکھنے سے اجتناب کرتا ہے تو یہ صومِ دہر نہ ہوگا۔ چنانچہ عائشہؓ کے بارے میں آتا ہے کہ آپؓ لگاتار روزے رکھتیں۔ انس بن مالکؓ کہتے ہیں صحابیِ رسول ابو طلحہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد چالیس سال تک لگا تار روزے رکھتے رہے (ممنوعہ ایام کے ماسوا)

٭٭٭٭٭٭٭

یہ بھی جان لو کہ جس آدمی کو بصیرت ملی ہو وہ روزہ سے جو مقصود ہے عین اس مقصود سے آشنا رہتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے آپ کو نیکی کے کسی ایسے (نفل) کا مکلف نہیں کرتا جس کی ادائیگی کے باعث وہ اُس سے کسی افضل تر عمل کو اختیار کرنے کے معاملہ میں بے ہمت ہو رہے۔

مثلاً، عبد اللہ بن مسعودؓ کا بکثرت روزہ رکھنے کا معمول نہ تھا۔ فرماتے: میں جب روزہ رکھتا ہوں تو نماز (کی طوالت و کثرت) پر پوری محنت نہیں کر پاتا، جبکہ میں (نفل) روزہ کی نسبت نماز (قیام وسجود) پر محنت اور ریاضت کو ترجیح دیتا ہوں۔ سلف میں بعض کے ساتھ یوں ہوتا کہ بکثرت روزہ رکھیں تو قراءتِ قرآن پر محنت نہ ہو پاتی۔ چنانچہ وہ بکثرت افطار سے رہتے تاکہ تلاوت پر قدرت پائیں۔ ہر انسان ہی اپنی حالت کا بہتر اندازہ کر سکتا ہے اور یہ بھی جان سکتا ہے کہ عبادت کے کون کونسے اعمال اس کے زیادہ سے زیادہ مناسبِ حال ہیں۔

(اردو استفادہ از:
مختصر منہاج القاصدین
مؤلفہ امام ابنِ قدامہ الحنبلیؒ
کتاب الصوم وآدابہ و أسرارہ ومہماتہ وما یتعلق بہ)

Author Name

[Story][hot]

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.