برصغیر پاک و ہند کی
 معروف مذہبی و روحانی شخصیت
حضرت پیر جماعت علی شاہؒ
نے ایک بار قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو
قرآن پاک، جائے نماز اور تسبیح
تحفے میں بھیجی ۔



قائداعظم محمد علی جناحؒ نے نہایت ادب اور محبت سے یہ تینوں تحفے وصول اور قبول کئے ۔

بانی پاکستان نے تحفوں کے جواب میں ایک خط حضرت پیر جماعت علی شاہؒ کو تحریر کیا۔

خط میں بانی پاکستان نے پیر صاحبؒ تحفہ
بھیجنے پر شکریہ ادا کیا اور عرض کی کہ
حضورمیں جانتا ہوں کہ آپؒ نے یہ تین مقدس اشیا
تحفے میں مجھے کیوں بھیجی اور ان بھیجی اور
ان کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ آپؒ نے قرآن پاک اس
لیے بھیجا کہ میں پڑھ کر اللہ کے احکامات کو
جانوں اور اسے نافذ کروں، اور جائے نماز اس لیے
بھیجا کہ جو آدمی اللہ کی اطاعت نہ کرے اس
کی اطاعت اس کی قوم بھی نہیں کرتی، اور
تسبیح اس لیے بھیجی کہ میں آقا دو عالم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجوں کہ جو درود
شریف نہیں پڑھتا اس پر اللہ کی رحمت نہیں
ہوتی۔خط حضرت پیر جماعت علی شاہ ؒ کو
موصول ہوا ۔ آپ ؒ نے بانی پاکستان کا خط کھولا
اور پڑھنا شروع کر دیا۔

خط پڑھنے کے بعد حضرت پیر جماعت علی شاہ ؒنے فرمایا۔ اللہ کی قسم ، محمد علی جناح اللہ کے ولی ہیں۔ اسے کیسے پتہ لگا کہ یہ تحفے میں نے اسی نیت سے بھیجے ہیں۔

حضرت پیر سید جماعت علی شاہ اپنے دور کے بہت نیک سیرت اللہ کے بندوں میں شمار ہوتے تھے انہوں نے ایک دفعہ کہا کہ محمد علی جناح اللہ کا ولی ہے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آپ اس شخص کی بات کر رہے ہیں جو دیکھنے میں گورا یعنی انگریز نظر آتا ہے اور اس نے داڑھی بھی نہیں رکھی ہوئی۔ تو امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا ’’ کہ تم اس کو نہیں جانتے وہ ہمارا کام کر رہا ہے‘‘۔ پیر صاحب کے اس دور میں تقریبا 10 لاکھ مرید تھے۔ آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ اگر کسی نے مسلم لیگ اور قائداعظم کو ووٹ نہ دیا۔ وہ میرا مرید نہیں۔

مرنے سے پہلے آپ نے اپنے ڈاکٹر سے کہا ’’ کہ پاکستان ہرگز وجود میں نہ آتا اگر اس میں فیضان نبوی ﷺ شامل نہ ہوتا ‘‘


آخر میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ایک قول جو انہوں نے قائداعظم کے لئے کہا
"محمد علی جناح کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ شخص خیانت کر سکتا ہے‘‘
۔(ماخوذ حیات قائد اعظم ۔وقائد و مسلک قائد اعظم علیہ الرحمہ )



اللہ عزوجل قائداعظم محمد علی جناح پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین