Articles by "Blog"

Showing posts with label Blog. Show all posts

5:12 am


پاکستان کھلاڑیوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے راشد خان نامی افغانی کرکٹر کے بارے میں کچھ دلچسپ انکشافات سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔
جن پر متعلقہ ادروں کی فوری تحقیق اور ایکشن کی ضرورت ہے۔

افغان کرکٹر راشد آرمان شینواری ولد حاجی خلیل ضلع آچین گاؤں پیخہ ننگرھار کے پاس افغانستان کے علاوہ پاکستان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی ہے۔

اس نے پاکستانی شناختی کارڈ پر ہی اسلامیہ کالج میں تعلم بھی حاصل کی ہے۔

اس کے تمام بھائیوں حاجی عبدالحلیم، میاں حلیم، سید حلیم، گل رضاء، گل صباح اور جلیل نے بھی پاکستانی نادرا سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا رکھے ہیں۔

یہ خاندان پاکستان ہی کے شہر پشاور میں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹوں پر چین کے ساتھ الیکٹرانکس، ٹائر اور ریم کا کاروبار کرتے ہیں۔

پاکستان کے شہر پشاور میں ان کے حیات آباد اور بورڈ میں کروڑؤں روپے کے عالیشان بنگلے ہیں جن میں اس پورے خاندان کی رہائش ہے۔

اسی طرح انہوں نے پاکستانی وفاق کے زیر انتظام علاقے لنڈی کوتل مختارخیل میں قلعہ نماء حویلی اور اس کے اندر کئی بنگلے بنا رکھے ہیں۔

بیرون ملک سفر کرنے کے لیے بھی یہ پورا خاندان پاکستانی پاسپورٹ ہی استعمال کرتا ہے۔

راشد آرمان شینواری خود تسلیم کرتاہے کہ وہ آفغانستان کا شھری ضلع آچین پیخہ کا رھنے والا ہے اور اپنی نجی محفلوں میں پاکستان کے خلاف خوب بکواس بھی کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس خاندان کو کس نے اور کس قانون کے تحت پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کر رکھے ہیں؟؟

عمران خان نے ادارے ٹھیک کرنے کی بات کی ہے۔ راشد خان متعلقہ اداروں کے لیے ایک ٹسٹ کیس ہے۔ اب پاکستانی قوم دیکھنا چاہتی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس معاملے میں کیا ایکشن لیتے ہیں۔

جس بدتمیزی سے وہ پاکستانیوں کھلاڑوں کو باہر جانے کا اشارہ کر رہا تھا اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان بھی اس خاندان کو واپس افغانستان جانے کا اشارہ کرے!

تحریر شاہدخان


10:31 pm
پرانی پہیلی نما کہانی ہے کہ 
کسی نے دوسرے سے پوچھا کہ 
ایک چیونٹیوں کی لائین جا رہی ہے 
سب سے اگے والی چیونٹی کہتی ہے ، میرے پیچھے دو چیونٹیں ہیں ۔

سب سے پیچھے والی کہتی ہے 
میرے آگے دو چیونٹیاں ہیں ۔

اور پھر درمیان والی کہتی ہے 
میرے آگے بھی دو چیونٹیاں ہیں اور میرے پیچھے بھی دو چیونٹیاں  ہیں 

بتاؤ تو بھلا قطار میں کل کتنی چیونٹیاں ہیں ؟

جواب ، اس پہیلی کا یہ بتایا جاتا ہے 
کہ

قطار میں چیونٹیاں تین ہی ہیں بس درمیان والی چیونٹی جھوٹ بولتی ہے ،۔

دوسری کہانی

چند پہلے کہیں کسی محفل میں گاما اپنے علم کا رعب ڈال رہا تھا 
کہ 
یہ جو گدھے ہوتے ہیں ناں جی یہ بھی پورا محکمہ موسمیات ہوتے ہیں ، جب   گدھا کھڑا ہو تو بارش کا امکان ہوتا ہے اور جب گدھا بیٹھا ہو تو موسم صاف ہوتا ہے ،۔

اپنا اچھو ڈنگر ، دیوار کے اوپر سے گامے کی حویلی میں جھانک کر دیکھتا ہے 
اور گامے سے پوچھتا ہے ۔

یار گامیا !۔
تمہارے آدھے گدھے بیٹھے ہیں اور آدھے کھڑے ہیں ، اس بات سے موسم کا کون سا آرتھ نکلتا ہے ؟
گاما بتاتا ہے 
کہ
اس سے موسم کا کوئی آرتھ نہیں نکلتا بس یہ سمجھ لو کہ آدھے گدھوں کو مغالطہ لگا ہوا ہے ،۔

حاصل مطالعہ 
الیکشن آنے والے ہیں ،  مغالطے اور مبالغے اپنے عروج پر ہیں ،۔

Author Name

[Story][hot]

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.