Articles by "پاکستان"

Showing posts with label پاکستان. Show all posts


پیش تحریر: کمزور دل اور تنگ دل حضرات یہ مضمون نہ پڑھیں

قائد اعظم 25 دسمبر 1887 کوکراچی میں پیدا ہوئے،آپ کا نام محمد علی رکھا گیا اور آپ کا خاندان جناح کہلاتا تھا۔ چونکہ اس وقت شعیہ سنی وغیرہ پیدا ہونے کی سہولت موجود نہ تھی لہذا وہ مسلمان کہلائے- اگرچہ ان کی وفات کے بعد خاصے لوگوں نے انکو یہ سہولت بہم پہنچانے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک ان کو زیادہ تر مسلمان ہی گنا جاتا ہے-

بچپن اور لڑکپن میں قائد اعظم کو کرکٹ میں اور اسنوکر میں دلچسپی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں کرکٹ کی آڑ میں عام و خاص جوا نہیں کھیلا کرتے تھے اور اسنوکر کی میز گلی محلے کے آوارہ و لفنگے لڑکوں کے ملنے کا ٹھکانہ نہیں ہوا کرتی تھی۔

ابتدائی تعلیم کے بعد قائداعظم اعلی تعلیم حاصل کرنے انگلینڈ چلے گئے جہاں انہوں نے کہا کہ انہوں نے لنکنز ان میں اس لیے داخلہ لیا کہ وہاں عظیم قانون دانوں کی فہرست میں نبی پاک صلى الله عليه وسلم کا نام بھی لکھا تھا۔ لیکن ہمارے دانشوروں نے بڑی محنت سے یہ ثابت کیا کہ لنکنز ان کے در پر حضورصلى الله عليه وسلم کا نام نہیں تحریر تو اس موقع پر یہی کہا جاسکتا ہے کاش اتنی محنت انہوں نے اپنے آپ پر کی ہوتی تو ان کو کم از کم اپنے ٹیکنیکل فالٹ کا پتہ ضرور لگ جاتا۔

قائد اعظم قانون دان بننے کے بعد پاکستان لوٹ آئے اور کراچی کی بجائے بمبئی کو مسکن بنایا اور وہاں پر قانون کی پریکٹس شروع کی- شروع میں جو ان کی باتیں سنتا وہ ان کا مذاق اڑاتا (اس لیے نہیں کہ اس زمانے میں بھی دانشور ہوتے تھے بلکہ ان کے بلند عزائم کی وجہ سے) لیکن ان سب کو منہ کی کھانی پڑی اور ایک روزقائد اعظم برصغیر کے نامور وکلا میں سے ایک قرار پائے اور اپنے بیگانوں نے انکی قابلیت کا اعتراف کیا۔

1910 میں آپ بمبئی سے اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ آپ نے اپنی سیاست کے لیے کانگریس کو چنا اور آپ کی مخلصانہ کوششوں کی وجہ سے آپ کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر کہا گیا کہ تب تک ہندوؤں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ انگریز چلے جائیں گے اور ان کے ہاتھ اقتدار آ جائے گا اور وہ تب تک برصغیر کی واحد جماعت نمائندہ جماعت کہلانے کے چکر میں تھے ادھر قائد اعظم بھی تب تک اپنوں بیگانوں سے ناوقف تھے –

1913 میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی جو تب تک محض ایک نمائشی جماعت تھی اور چند نوابوں نے مسلمانوں کے حقوق انگریزوں کو بتانے کی خاطر بنائی تھی۔1920 میں آپ نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا کیونکہ آپ کو گاندھی سے اختلاف پیدا ہوگئے تھے کہ کئی لوگ اب تک گاندھی جی کی سیاست نہین سمجھ پائے قائد اعظم تب ہی سمجھ کر ایک طرف ہو گئے تھے۔

1929 میں قائد اعظم نے اپنے مشہور زمانہ چودہ نکات پیش کیے جن کو تاریخ دان پاکستان کی طرف پہلا قدم کہتے ہیں جبکہ طالب علم فیل ہونے کی طرف پہلا قدم کہتے ہیں۔ یہ بھی ان کی خوش قسمتی رہی کہ یہ نکات 1929 میں پیش کیے اب پیش کرتے تو اور نہیں تو کم از کم غداری کا الزام ضرور لگ جانا تھا ان پر کہ اس میں صوبہ توڑنے کی بات کی گئی تھی (سندھ کو بمبئی سےعلیحدہ کرنا) اب تو لوگ کہتے ہیں ملک بھلے ٹوٹ جائے صوبہ نہیں توڑیں گے جبکہ گوروں کی بے عقلی ملاحظہ ہو کہ صوبہ ان کے لیے محض ایک انتظامی اکائی ہے جس کے ساتھ وہ وہی سلوک کرتے ہیں جو ہم اپنے ایک پرانے غبی نوکر جس کا نام بھی صوبہ ہی تھا کہ ساتھ کرتے تھے کہ وہ دن میں دو تین تھپڑ نہ کھاتا توخود بےچین بے چین پھرا کرتا تھا۔ اس چودہ نکات جو انہوں نے نہرو رپورٹ جو ہندوؤں کے عزائم ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا کی مخالفت میں پیش کیے نے آپ کو ملکی سطح پر بڑے لیڈروں میں لا کھڑا کیا اور کانگریس کو پتہ چل گیا ان کا مقابلہ اب ایک ایسے لیڈر سے ہے جو نہ بک سکتا ہے نہ جھک سکتا ہے اور یہ صرف اس کے انتخابی اشتہارات پر لکھنے تک محدود نہیں۔

1930 میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کی لیکن 1931 میں انہوں نے دلبرداشتہ ہو کر فیصلہ کیا کہ وہ لندن میں ہی رہ جائیں کہ اغیار عیار تھے اور اپنے بےوقوف حد تک سادہ اس فیصلے پر ہندوں نے بھی شکر ادا کیا اور ان مسلمانوں نے بھی جن کی قائد کی موجودگی میں ہند میں دال گلتی نہیں دکھ رہی تھی تاہم 1934 میں علامہ اقبال (وہی علامہ اقبال جن کی نظموں کی ہم تشریح میں اور قوال گائیکی میں حتی الوسیع رگیدتے ہیں ) اور چند دیگر راہنماؤں نے ان کو قائل کیا کہ اب برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کا مستقبل ان کے ہاتھ میں ہے اور ان کے علاوہ کوئی ذات نہیں جو ان مسلمانوں کا جن کے بچوں نے بڑے ہو کر انہی پر تنقید کرنی ہے کو درست راہ پر گامزن کر سکے۔ علامہ اقبال تو خیر جلد ہی فوت ہوگئے تاہم بقیہ قائل کرنے والے راہنماؤں کے ساتھ ہماری قوم اور لیڈران نے وہ سلوک کیا جو آپ کی ہندستانی سیاست میں واپسی پرہندوؤں نے سوچا تھا۔

آپ واپس آ گئے اور آپ کو مسلم لیگ کا صدر بنایا گیا۔ 1935 میں الیکشن ہوئے اور کانگریس واحد جماعت بن کر ابھری اور مسلمانوں کو قائد اعظم کی باتوں کا احساس ہوا کہ ہندو کی ہزاروں سال سے دبی رام راج کی خواہش پر عمل کرنے کا وقت آ گیا اور ہندؤں نے مسلمانوں کا ایسا ناطقہ بند کیا کہ وہ لوگ جو قائداعظم اور ہندو مسلم الگ الگ قوم کی مخالفت کیا کرتے تھے وہ بھی قائد اعظم اور مسلم لیگ کے ہمنوا ہو گئے۔ لیکن کچھ لوگ ابھی بھی تھے جو قائد اعظم کے مخالف تھے اور ان کے خیال میں آئندہ سو ڈیڑھ سو سال میں یہاں پر مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی اور پھر خلافت بحال ہو گی یہ وہ لوگ تھے جو خود اچھی زندگیاں گزار رہے تھے اور ان کو عام مسلمان کی پریشیانی کا کوئی احساس نہیں تھا۔ یہ پڑھے لکھے لوگ تھے جو سمجھتے تھے باقی لوگ بھی ایسے ہی قابل اور ذہین ہیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ جہاں جہاں ہندو اکثریت میں تھے وہاں کے مسلمان نام کے بھی مسلمان نہیں بچے تھے- ایسے ہی کچھ لوگ اب پاکستان کی تقسیم پر سوال اٹھاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان میں پلے بڑھے ہیں یہاں آزاد معاشرے میں اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار چکے ہیں اور بھارتی مسلمانوں سے مل کر بھی نہیں سبق سیکھے اور مسلم اکثریت کے خواب دیکھتے ہیں جبکہ کشمیر تک میں تو مسلمان وزیر اعلیٰ بھارت سرکار کی مرضی کے خلاف آ نہیں سکتا اور یہ لوگ چلے ہیں مغل حکمرانی بحال کرنے-

1939 میں آخر کار کانگریس خود ہی منہ پھلا کر حکومت دے بیٹھی اور مسلمانوں اور لیگ نے شکر کی نوافل ادا کیں کہ جان چھوٹی وگرنہ انگریز اور ہندو دونوں کا ایک ہی مخالف تھا، 'مسلمان'۔ 1940 میں قرارداد لاہور پاس کی گئی جس کو ہندو اخبارات نے ہی قرارداد پاکستان مشہور کیا اور خؤد ہی اپنی کشتی ڈبونے کا انٹطام کیا۔ قائد اعظم نے مسلمانوں نے نئی روح بھر دی وہ مسلمان جو فارسی اردو انگریزی، مدرسہ اسکول ، ہندو انگریز میں گو مگو کا شکار تھا ایک پاکستان پر متحد ہو گیا اور قائد اعظم کی قیادت پر انہیں اپنے آپ سے زیادہ اعتبار تھا کہ اپنا پتہ تھا کہ ہم بک سکتے ہیں قائد اعظم پر کسی کو شبہ نہ تھا۔

1946 میں کانگریس کی کئی چالیں، زبان بدلنے اور موقع پرستی کے مواقع کے بعد آخر کار الیکشن ہوئے جس میں مسلم لیگ نے کانگریس جو مسلمانوں اور ہندؤں دونوں کی نمائندہ ہونے کی دعویدار تھی کو چھٹی کا دودھ دلا دیا اور انگریزوں کو یہ بات پتہ لگ گئی کہ مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی نمائندہ ہے- مخلوط حکومت بنی لیکن کانگریس کو پتہ لگ گیا کہ مسلم لیگ کم از کم قائد اعظم کے ہوتے ان کے دام میں نہیں انے والی- انہوں نے بادل نخواستہ مسلمانوں سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا اور ادھر انگریز بھی ایک دم ہی انڈیا سے بور ہوگئے اور وہ انتقال اقتدار جو دو سالوں میں ہونا تھا انہون نے بندر بانٹ کر کے (جس میں بندر بھارت کے حصے اور بانٹ مسلمانوں کے حصے مین آئی) چلتے بنے اور نئے ملک کو کئی تحفے دے گئے جس میں سے چند ایک تو اب تک بھگتائے جارہے ہیں۔

قائد اعظم نے فرمایا کہ پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جس دن برصغیر میں پہلا مسلمان ہوا تھا یہ وہ پاکستان تھا جو قائد اعظم نے سوچا تھا جبکہ آج کے پاکستان کے حساب سے پاکستان اس دن وجود میں آیا تھا جس دن برصغیر مین دوسرا مسلمان ہوا تھا کہ یہاں اپنے اسلام سے زیادہ لوگ دوسروں کے اسلام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

قائد اعظم نے خود فرمایا کہ پاکستان اللہ کی مدد سے میں نے اور میری قوم نے بنایا بقیہ لیڈر تو گویا میری جیب میں چند کھوٹے سکے ہیں۔ قائد اعظم خود تو اچھے وقتوں میں اللہ میاں کےپاس چلے گئے اور ہمیں اور ہمارے ملک کو ان کھوٹے سکوں کے حوالے کر گئے جنہوں نے ہماری راہ کھوٹی کی، منزل کھوٹی کی، نیت کھوٹی کی اور ہمیں بھی اپنے جیسا کھوٹا بنا کر چھوڑا۔ اور خود کھوٹے کی تکرار کرتے کرتے کھوٹے کی "ٹ" گھسا کر "ت" تک پہنچ گئے۔

پاکستان بننے کے بعد وقت کم تھا مقابلہ سخت تھا اور مسلمان مال غنیمت لوٹنے پر لگا تھا – ابھی انگریز اور ہندو کے دیے زخم تازہ تھے کہ اللہ کو ہمارا ایک اور امتحان لینا مقصود ہوا اور 11 ستمبر 1948 کو قائد اعظم خالق حقیقی سے جا ملے- بہت سے لوگ اس کے ڈانڈے اس وقت کی حکومت سے جا ملاتے ہیں جو کہ اللہ ہی جانے کہ جن پر الزام تھا وہ خود ایسی موت مرے جس کا کسی اور پر الزام لگا-

 قائد اعظم کےبعد اس قوم کو احساس ہوا کہ وہ کتنے اہم شخصیت تھے کہ اس کے بعد ہر کام میں ہماری بد نیتی آڑے آئی اور جہاں سے چلے تھے درحقیقت اس سے بھی پیچھے پہنچ چکے ہیں۔ پہلے قائداعظم کو ہر گیارہ ستمبر اور پچیس دسمبر کو یاد کرتے تھے تاہم امریکہ کے حملوں کے بعد ہمارے لیے وہ بڑا واقعہ ہے (حامیوں اور مخالفوں دونوں کے لیے) گیارہ ستمبر اور پچیس دسمبر ہم دیسی انگریزوں کے لیے کرسمس اہم ہے اس لیے اب بہت سے لوگوں نے ویک اینڈ پر قائد اعظم کے مزار پر جانا شروع کردیا ہے جہاں جس کے پاس آپ کی تصویر والا نوٹ ہے وہ اچھا وقت گزار سکتا ہے- ملک بنانے والے ٹائم بھی اچھا بنانے کا باعث بن رہے ہیں۔




پاکستان کے روحانی پہلو ۔۔ ! ایسی تحریر شائد پہلے نہ پڑھی ہو۔سوچیں سمجھیں اور شکر کریں۔۔

‎پاکستان 27 رمضان کو وجود میں آیا۔ نبی پاک نے خواب میں قائد عاظم کو پاکستان بنانے کی جانب توجہ دلاۓ تھی یہ اتفاق نہیں بلکہ انتخاب تھا۔ اللہ نے اس عظیم ریاست کو وجود میں لانے کے لیے سال کی سب سے بہترین رات منتخب کی تھی۔ بہت سے نیک لوگوں کو یقین ہے کہ جس رات پاکستان وجود میں آیا اس رات لیلاۃ القدر تھی۔

‎مستقبل کے حوالے سے حضورﷺ کی کئی احادیث میں سعودی عرب سے مشرق کی سمت کسی ریاست کا ذکر آتا ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں اہم ترین کردار ادا کرے گی مثلاً

‎غزوہ ہند کی مشہور حدیث جس کے مطابق ایک اسلامی ملک پہلے ہندوستان فتح کرے گا اور پھر اہل یہود کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑے گا۔

‎اسی طرح روایات ہے کہ حضورﷺ نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میرا دین پوری دنیا میں کمزور ہوگا تو وہاں سے اٹھے گا۔

‎ایک اور موقعے پر فرمایا کہ مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں۔ جس پر علامہ اقبال نے قسم کھائی کہ ۔۔۔۔

‎میر عرب کو آئی تھی جہاں سے ٹھنڈی ہوائیں
‎وہی میرا وطن ہے وہی میرا وطن ہے

‎اب ذرا یہ چیک کرتے ہیں کہ کیا پاکستان کے متعلق واقعی علامہ اقبال کا گمان درست تھا اور حضورﷺ کی احادیث میں پاکستان ہی کی طرف اشارہ تھا!

‎یہ تو آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ اسلام کی 1400 سالہ تاریخ میں مدینے کے بعد پاکستان دوسری ریاست ہے جو اسلام کے نام پر بنی ہے۔ لیکن مدینے سے مماثلت کا معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں !

‎مدینے کو اس وقت مشرکوں ( بت پرستوں) سے خطرہ تھا ان مشرکوں کی مدد یہودی کر رہے تھے۔

‎پاکستان کو بھی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی مشرک (بت پرست) ریاست انڈیا سے خطرہ ہے جس کی مدد اسرائیل یعنی یہودی کر رہے ہیں۔

‎مدینے کی مشرکوں کے خلاف تین بڑی جنگیں ہوئیں اور چوتھی جنگ فیصلہ کن تھی جس میں مکے کو فتح کر لیا گیا تھا۔

‎پاکستان کی مشرکوں ( انڈیا ) کے ساتھ اب تک تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔ چوتھی جنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فیصلہ کن ہوگی۔

‎دونوں کے نام کا مفہوم بھی ایک ہی ہے۔ پاکستان کا مطلب ہے " پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ " ۔۔۔۔۔۔۔ مدینہ کو پہلے مدینہ النبی اور بعد میں مدینہ طیبہ کہا جانے لگا جس کا مطلب ہے " پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ"

‎حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے آج سے 850 سال پہلے نہ صرف قیام پاکستان کی پیشن گوئی فرمائی تھی بلکہ اس ملک سے اللہ نے جو کام لینے ہیں ان کے بارے میں بھی بتا دیا تھا ۔ قیام پاکستان سے پہلے نعمت اللہ شاہ ولی نے فرمایا تھا کہ
‎بعد ازاں گیرد نصارے ملک ہندویاں تمام ۔۔۔۔۔ تاصدی حکمش میاں ہندوستاں پیدا شود
‎یعنی انگریزوں کی حکومت صرف ایک صدی تک قائم رہے گی۔ نعمت اللہ شاہ کے اس شعر پر لارڈ کرزن نے پابندی لگوا دی تھی۔

‎اس کے بعد قیام پاکستان سے متعلق فرماتے ہیں
‎دو حصص چوں ہند گردو خون آدم شدرواں ۔۔ شورش و فتنہ فزون از گماں پیدا شود
‎یعنی ہندوستاں دو حصوں میں تقسیم ہوجائیگا اور بہت زیادہ شورش اور خون خرابہ ہوگا۔

‎پھر فرماتے ہیں ۔۔
‎مومناں یا بنداماں در خظہ اسلاف خویش ۔۔۔۔۔۔۔۔ بعدازرنج و عقوب بت بخت شاں پیدا شود
‎یعنی مسلمان دراسلام میں امان حاصل کرلینگے۔ اس شعر میں ان مہاجرین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے ہندوؤں کے ظلم ستم سہنے کے بعد پاکستان آکر آمان پائی۔

‎65ء کی جنگ کا بھی ذکرکیا ہے کہ 17 دن چلے گی اور مومنوں کو اللہ فتح دے گا لیکن 71ء کی جنگ کے حوالے سے دلچسپ شعر کہا کہ
‎نعرہ اسلام بلند شد بست دسہ ادوارچرخ ۔۔۔۔ بعد ازاں بارد گریک قہر شاں پیدا شود
‎یعنی اسلام کا نعرہ 23 سال تک بلند رہے گا جس کے بعد دوسری مرتبہ ان پر قہر ٹوٹے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن ٹھیک 23 سال بعد سازشیوں نے اس میں لسانیت کا زہر گھول دیا اور بنگالی کا نعرہ بلند کیاگیا تب بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوا۔ اپنی اس کامیابی پر اندرا گاندھی نے بڑے مغرور انداز میں کہا تھا کہ " آج نظریہ پاکستان کو ہم نے خلیج بنگال میں غرق کر دیا " ۔۔ یہ وہی نظریہ ہے جسکا اوپر شعر میں ذکر ہے۔

‎اشعار بہت زیادہ ہیں نیٹ پر باآسانی مل جائنگے ہم یہاں خلاصہ لکھتے ہیں کہ نعمت اللہ شاہ نے پاکستان کو ایک زبردست جنگجو لیڈر ملنے کی پیش گوئی کی ہے جس کی قیادت میں پاکستان کی انڈیا کے ساتھ ایک آخری اور فیصلہ کن جنگ ہوگی جس میں ابتداء میں پاکستان اٹک تک خیبر پختنواہ اور پنجاب کے کئی علاقے کھو دے گا۔ لیکن مسلمان جنگ جاری رکھینگے جس کے بعد بلاآخر انڈیا کو مکمل طور پرمغلوب کر دیا جائیگا۔

‎جہاں تک جنگجو حکمران کی بات ہے تو گمان غآلب ہے کہ وہ کوئی سپاہ سالار ہی ہو سکتا ہے۔ ہم نے پاکستان کی 68 سال تاریخ میں دیکھ لیا ہے کہ جرنیل ہمیشہ پاکستان کے لیے بہترین حکمران ثابت ہوئے ہیں۔

‎اس کے علاوہ ان اشعار کے حوالے سے دو چیزیں ایسی ہیں جو آج ہمیں نظر آرہی ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان کی مدد منگول کرینگے۔ ان کے دورمیں چینی قوم کو منگول بھی کہا جاتا تھا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ انڈیا کے خلاف چین اور پاکستان متحد ہوچکے ہیں۔

‎دوسری اٹک تک کا علاقہ کھونے کی بات کو اس تناظر میں دیکھیں کہ افغانستان میں موجود 2 لاکھ افغان نیشنل آرمی سخت پاکستان دشمن ہے اور انکی قیادت انڈیا کے زیراثر ہے۔ ان کا پاکستان میں اٹک تک کے علاقے پر دعوی بھی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ جب پاک فوج انڈیا کے ساتھ مصروف جنگ ہو تو افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کو موقع مل جائے پاکستان پر مغربی سمت سے حملہ کرنے کا اور پاک فوج کی غیر موجودگی میں ان کے لیے ان علاقوں میں پیش قدمی کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ گمان غالب ہے کہ ان کے خلاف پاکستان کی مدد افغان طالبان کرینگے!

‎نعمت اللہ شاہ ولی کی یہ پیشن گوئیاں یہ بھی ثابت کرتی ہیں کہ غزوہ ہند لڑنے والی جس عظیم فوج کا حضورﷺ نے ذکر کیا ہے وہ پاک فوج ہی ہے۔ اس پر ایک دلیل اور بھی ہے۔ غزوہ ہند والی حدیث میں لڑنے والی فوج اسرائیل کے خلاف بھی جنگ کرے گی یعنی یہودیوں سے۔ آج اس خطے میں جو اسلامی ممالک موجود ہیں ان میں سے صرف پاکستان ہی واحد اسلامی ملک ہے جسکی بیک وقت اسرائیل اور انڈیا کے ساتھ معاملات خراب ہیں اور کئی جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ یہ شرط نہ افغانستان پوری کر سکتا ہے نہ بنگلہ دیشن اور نہ ہی ایران۔

‎اب نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشن گوئیوں کے حوالے سے ایک چھوٹا سا واقعہ آپکو سناتے ہین۔
‎نعمت اللہ شاہ کی پیشن گوئیوں کو سن کر ایک 25 سال کا جوان 1857ء کی جنگ آزادی میں شریک ہوا ۔ وہ فتح کے لیے پر امید تھا لیکن اسی جنگ کے دوران اس نوجوان کو ایک بزرگ ملے اور اس سے کہا کہ " تم کو جس فتح کی خوشخبری دی گئی تھی یہ وہ نہیں ہے اس میں ابھی 90 سال باقی ہیں ۔ ایک ملک بنے گا جو عالم اسلام کا مرکز بنے گا اور تم اسکو دیکھو گے۔
‎یہ سن کر وہ نوجوان جنگ چھوڑ کر چلا گیا اور انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ ٹھیک 90 سال بعد پاکستان بنا ۔ وہ پھر بھی زندہ رہا اور جب اسلام آباد بنا تب وہ 160 سال کی عمر میں فوت ہوا اور اسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں دفن ہوا ۔ جہاں اسکی قبرکی تختی پر اس معاملے کا ذکر بھی ہے۔ انکی قبر قدرت اللہ شہاب کی قبر کے نزدیک ہے۔ قبر پر انکا نام عبد اللہ محبوب لکھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص حضرت مہاجر مکی تھے۔ واللہ اعلم

‎ہالینڈ کی نیشنل لائبریری میں ہاتھ لکھی ہوئی ایک دستاویز موجود ہے جو حضرت بری امام سے منسوب ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ " ایک دن ہمارا یہ شہر تمام عالم اسلام کا مرکز بنے گا " ( بری امام صاحب اسلام آباد میں دفن ہیں) وہ آج سے 300 سال پہلے گزرے ہیں۔

‎شیخ لہند نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی لیکن پاکستان بن جانے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ " اب پاکستان مسجد کے حکم میں ہے اور اسکی حفاظت فرض ہے " ۔۔
‎مولانا اشرف علی تھانوی نے قیام پاکستان سے غالباً 6 سال پہلے اپنی بیوی کو وصیت کی تھی کہ " پاکستان بن جائیگا تم وہاں چلی جانا " ۔۔۔

‎خان آف قلات کو حضورﷺ خواب میں آئے تھے کہ " پاکستان کے ساتھ شامل ہوجاؤ " ۔۔۔

‎ صوفی برکت علی نے فرمایا تھا کہ " ایک دن پاکستان کی ہاں اور ناں میں دنیا کی ہاں اور ناں ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میری قبر پر آکر تھوک دینا" ۔۔۔

‎بات صرف ہمارے بزرگوں تک محدود نہیں۔ کفار کے بڑوں نے بھی اس حوالے سے پیشن گوئیاں کر رکھی ہیں مثلاً

‎ہندو ہر بڑا کام کرنے سے پہلے حساب کتاب کرتے ہیں زائچے بناتے ہیں، مہورتیں نکلاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد گاندھی نے پنڈت و نجومی بلوا کر حساب کتاب کیا اور پھر اعلان کیا کہ پاکستان اور انڈیا میں 4 جنگیں ہونگی اور چوتھی جنگ فیصلہ کن ہوگی۔ گاندھی نے یہ نہیں بتایا کہ جنگ کا فاتح کون ہوگا۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ اس کے بعد اس نے انڈیا کو پاکستان کے خلاف جنگ سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی یہانتک کے پاکستان کو اسکا حق دلوانے کے لیے مرن بھرت یا بھوک ہڑتال کر دی تھی جس پر اسکو قتل کر دیا گیا۔

‎اسی طرح ڈیوڈ بن گوریان جو کہ اسرائیل کے بانیوں میں سے تھا اس نے پاکستان کے حوالے سے پیشن گوئی کی تھی کہ "بین الاقوامی صہیونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئیے۔ پاکستان درحقیقت ہمارا اصلی اور حقیقی نظریاتی جواب ہے۔پاکستان کا ذہنی و فکری سرمایہ اور جنگی و عسکری قوت و کیفیت آگے چل کر کسی بھی وقت ہمارے لیے باعث مصیبت بن سکتی ہے ہمیں اچھی طرح سوچ لینا چاہئے ۔بھارت سے دوستی ہمارے لیے نہ صرف ضروری بلکہ مفید بھی ہے ہمیں اس تاریخی عناد سے لازماً فائدہ اٹھانا چاہئیے جو ہندو پاکستان اور اس میں رہنے وا لے مسلمانوں کے خلاف رکھتا ہے ۔ یہ تاریخی دشمنی ہمارے لیے زبردست سرمایہ ہے۔لیکن ہماری حکمت عملی ایسی ہونی چاہئیے کہ ہم بین الاقوامی دائروں کے ذریعے ہی بھارت کے ساتھ اپنا ربط و ضبط رکھیں"۔۔۔۔۔۔ {یروشلم پوسٹ 9 اگست 1967}

‎عالم کفر کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
‎عیسائیت، یہودیت، مشرکین اور ملحدین
‎بہت کم لوگوں کو احساس ہوگا کہ پاکستان اس وقت بھی ان چاروں سے بیک وقت برسرپیکار ہے اور ان سب کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔
‎مشرکین کی نمائندہ ریاست انڈیا ہے جبکہ یہودیوں کی اسرائیل۔ ان کے خلاف پاکستان کی جنگ سے ہم سب واقف ہیں۔
‎جدید الحاد کی سب سے بڑی نمائندہ ریاست روس ہے جو اپنے وقت کی سپر پاور تھی۔ جب وہ اپنے الحادی نظریات کو پوری طاقت سے دنیا بھر میں پھیلا رہی تھی تب پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچی۔
‎امریکہ بظاہر پاکستان کا اتحادی ہے لیکن اب دنیا جان چکی ہے کہ افغانستان میں امریکہ کو درحقیقت کس کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہے۔

‎یہ پیشن گوئی قدرت اللہ شہاب کی کتاب میں بھی موجود ہے جس کے مطابق جب وہ 1959ء میں یونیسکو کے ایگزیکٹیو بورڈ کے ممبر تھے تو اس وقت ان کے تعلقات ایک یورپی باشندے سے ہوئے جس نے قدرت اللہ شہاب کو بتایا کہ " کہ اگرچہ امریکہ اور روس ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن پاکستان کو دونوں اپنا دشمن سمجھتے ہیں" ۔۔۔
‎پھر اس نے وضاحت کی کہ " یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی اعلی ترین افواج میں ہوتا ہے اور یہ حقیقت نہ روس کو پسند ہے نہ امریکہ کو " ۔۔۔
‎" روس کی نظریں افغانستان اور پھر بحیرہ عرب پر ہیں جن کو قابو کرنا پاک فوج کی موجودگی میں نہ ممکن ہے " ( جنرل ضیاء نے اسکو بعد میں سچ ثابت کر دیا )
‎"جبکہ امریکہ اسرائیل کا حلیف ہے اور جانتا ہے کہ اگر اسرائیل کے خلاف عالم اسلام کی جانب سے عالمی طور پر جہاد کا اعلان ہوا تو پاکستان کی افوج اور نہتی آبادی بھی کسی حکم کا انتظار کیے بغیر اسرائیل پر چڑھ دوڑے گی " ( یہ پیشن گوئی غزوہ ہند والی حدیث میں بھی ہے اور نعمت اللہ شاہ ولی نے بھی یہی بات کی ہے )

‎اکھنڈ بھارت، گریٹر اسرائیل اور صہیونی تحریک کے راستے کی سب سے بڑی رکاؤٹ پاکستان ہے۔ انڈیا پاکستان کی وجہ سے اب تک صرف کشمیر پر قابونہیں پا سکا۔ اسرائیل نے دو بار آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پاکستان کے ہاتھوں رسوا ہوا۔ روس پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔ امریکی جنگی ماہرین کے مطابق امریکہ کی افغانستان میں ناکامی کی وجہ پاکستان ہے!

‎پاکستان کے ساتھ ایک اور معاملہ بھی عجیب و غریب ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کو اللہ زمین میں ہی نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ مثلاً سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دار سارے کردار جنہوں نے پاکستان کو توڑا تھا اللہ نے انکو انکے خاندانوں سمیت مٹادیا۔

‎ذولفقارعلی بھٹو کا سارا خاندان غیر طبعی موت مرا اور آج درحقیقت اسکا کوئی نام لیوا موجود نہیں۔ بلاول بھٹو حقیقت میں بلاول زرداری ہے۔
‎شیخ مجیب الرحمن اپنے پورے خاندان سمیت مارا گیا صرف اسکی ایک بیٹی باقی بچی۔
‎اسی طرح اندرا گاندھی نہ صرف خود قتل ہوئی بلکہ اسکا بیٹا راجیو گاندھی بھی قتل ہوا اور دوسرے بیٹے سنجے گاندھی کا 33 سال کی عمر میں پلین کریش ہوگیا یوں اسکا پورا خاندان ختم ہوگیا۔

‎دنیا بھر میں اس وقت عالم اسلام کے خلاف آپریشن ہارنسٹ نسٹ کے نام سے ایک پراکسی جنگ جاری ہے جس میں خوارج کے ذریعے اسلامی ملکوں کو بہت تیزی سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں اس جنگ میں عالمی قوتوں کو شکست ہوئی ہے اور خوارج کو عملی اور نظریاتی دنوں محاذوں پر پسپائی کا سامنا ہے۔ پاکستان کے خلاف لڑنے والوں کا کیا حال ہوتا ہے !
‎طاہر یلد شیف کو روس نے " شیطان " کا نام دے رکھا تھاکیونکہ انکا خیال تھا کہ یہ مرتا نہیں ہے۔ اس شخص کوامریکہ ازبکستان میں روس کے خلاف سال ہا سال تک استعمال کرتا رہا۔ لیکن اس شخص کو جب پاکستان کے خلاف لانچ کیا گیا تو کچھ ہی عرصے بعد یہ پاک فوج کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔
‎اسی طرح سری لنکا کے خلاف لڑنے والی تامل تحریک کے لیدڑپربھاکرن کو لوگ سورج دیوتا کہتے تھے کیونکہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اسکو موت نہیں آتی۔ لیکن جب ان تاملز نے پاکستان پر لاہور میں حملہ کیا تو جواباً پاک فوج نے سری لنکن فوج کے ساتھ ملکران تاملز کے خلاف آپریشن کیا جس میں وہ سورج دیوتا مارا گیا۔
‎عجیب بات ہے کہ پاکستان کے خلاف لڑنے والے اکثر خارجیوں کو تین چار سال سے زیادہ کی مہلت نہیں ملتی!

‎اب اس مضمون کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذرا ان "اتفاقات" پر غور فرمائیے!

‎پاکستان آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا اسلامی ملک نہیں لیکن اس کے باوجود دنیا میں سب سے زیادہ نمازی، روزے دار، زکواۃ دینے والے، مساجد، علماء، حفاظ اور حاجی پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔
‎پاکستان دنیا میں دینی جماعتوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
‎پاکستان دنیا میں جہاد کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

‎پاکستان کو اللہ نے دنیا میں سب سے اہم سٹریٹیجک لوکیشن دی ہے اور دنیا کی کئی بڑی سپر طاقتیں بیک وقت کسی نہ کسی طرح پاکستان پر انحصار کرتی ہیں۔ یہی حال پاکستانی سمندر کا بھی ہے خاص کر گوادر کا۔

‎پاکستان کو اللہ نے 5 موسم دئیے ہیں اور دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام۔ کہا جاتا ہے کہ اگر پاکستان صحیح معنوں میںٰ اپنی زمینوں سے پیدوار لے تو پورے براعظم کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔

‎پاکستان کے پاس بے پناہ معدنی وسائل ہیں جن میں صرف تھر کا کوئلہ ہی سعودی عرب کے کل تیل کے ذخائر سے زیادہ مالیت کا ہے۔

‎پاکستان سوئی نہیں بنا سکتا لیکن دنیا کے جدید ترین میزائل بنا چکا ہے۔ پاکستان کے نیوکلئر میزائل پروگرام کا مقابلہ اس وقت دنیا میں صرف امریکہ اور چین کر سکتا ہے۔ باقی ممالک کو اس معاملے میں پاکستان پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

‎کیا یہ سب واقعی محض اتفاقات ہیں ؟؟؟

‎پاکستان کے خلاف بے پناہ سازشیں ہونے کے باوجود اب تک اللہ نے اسکو بچایا ہے۔ کیسے کیسے ؟ اس پر اگر لکھا جائے تو شائد ایک پوری کتاب کی ضرورت پڑے۔ یہاں 65ء کی جنگ کے واقعات بھی نہین لکھے جا سکے جس میں اللہ نے بلکل ویسے پاکستان کی مدد فرمائی تھی جیسے اصحاب بدر کی فرمائی تھی۔

‎واللہ پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ یہ محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے۔ اس کے ساتھ آنے والے وقت کے بہت سے اہم ترین معاملات وابستہ ہیں۔ جو شخص اس امانت میں خیانت کرے گا وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ پائیگا!

‎علامہ اقبال جس کوایک دنیا اللہ کا ولی مانتی ہے نے اپنی عمر کا آخری حصہ اس پاکستان کے بارے میں لوگوں کو آگہی دیتے گزار دیا!

‎صرف ایک مضمون میں پاکستان کے حوالے سے سب کچھ نہیں سمیٹا جا سکتا۔ کوشش کی ہے کہ کچھ چیدہ چیدہ معاملات پر لکھا جائے۔ جس جس ساتھی تک یہ پیغام پہچ رہا ہے وہ اس کو آگے پہنچا کر اپنا پاکستانی ہونے کا حق ادا کرے۔۔ #

Author Name

[Story][hot]

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.