Articles by "رازِ زندگی"

Showing posts with label رازِ زندگی. Show all posts

جناب شاھ جی  بلنگا شاھ سرکار گامے سے پوچھتے ہیں ،۔


گامیا ، تم اج اپنے دل کی اصلی بات بتا ہی دو کہ تم  میری کتنی عزت کرتے ہو ؟

گاما : جناب شاھ جی قبلہ ، میں اپ کی ٹھیک اتنی ہی عزت کرتا ہوں جتنی کہ اپ کے دل مبارک میں میرے لئے عزت اور قدر ہے ،۔

شاھ جی تھوڑا زیر لب مسکرا کر گویا ہوتے ہیں ۔
تم میرے دل کی پوچھتے ہو ؟ میرا دل حکمت اور نور سے بھرا ہوا دل ہے ، علم اور حکمت کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی دعاؤں سے اس دل میں ہر بندے کی  وہی قدر اور حثیت ہے جو کہ اس بندے کی اصلی حثیت  ہو سکتی ہے ،۔

گاما : جی بس  جی ، وہی ویسی ہی باتیں میرے بھی دل میں ہیں ،۔
شاھ جی : پھر بھی میں سننا چاہتا ہوں کہ تمہارے دل میں میری کتنی عزت ہے ؟
گاما پہلے اپ بتاؤ جی ؟

شاھ جی : یار گامیا ، میں نے کیا بتانا ہے اور کیا اظہار کرنا ہے ،
تم بس ایک نیچ ذات کے کمی ہی تو ہو ، تمہاری حثیت کیا اور عزت کیا ؟
تم بس سادات سے عزت کا اظہار کر کے اپنے دل کی بات بتاؤ ؟
گاما ہاتھ جوڑ کر گگیاتا ہوا کہتا ہے ،۔

شاھ جی اپ  وہ سفید پوش سیاھ کار ہو جو بھیک کی کمائی سے چلتے ہو  اور سخت کام چور واقع ہوئے ہو ۔
یہ ہے میرے دل میں اپ کے لئے شاھ جی قبلہ !!!،۔

شاھ جی غصہ کر جاتے ہیں ، عام عوام کے لہجے میں گالیاں دیتے ہوئے وہاں سے چلے جاتے ہیں ،۔
اگلے دن شاہنی صاحبہ گامے کی بیوی گھر پر بلاتی ہیں ،اور اس کو سخت سست کہتی ہیں اور جھاڑ پلاتی ہیں کہ گامے نے  شاھ کی بے عزتی کی ہے 
اس لئے روز محشر ہم نے اپ لوگوں کی سفارش نہیں کرنی ہے ،۔
اب شاھ جی کا غصہ ٹھنڈا کرنے کا ایک ہی حل ہے۔
 کہ تم ایک تھال کچے چاولوں کا بھر کر 
 چاولوں کی چوٹی بنانی ہے ،
اور اس چوٹی پر ایک گڑ کی روڑی ٹکا کر 
اس کے اوپر ایک نئی پگ کا کپڑا رکھ کر 
شاھ جی کو نذر گزارنی ہے ورنہ تم لوگوں کو بہت شراپ لگے گا ،۔

گامے کی بیوی تھال تیار کر رہی تھی 
اور گاما بڑبڑا رہا تھا 
یہ ہے ان کا بھیک مانگنے کا طریقہ !،۔
گامے کی بیوی کہہ رہی تھی 
یہ بھیک نہیں ہے 
یہ نذرانہ ہے نذرانہ !۔


ایک گاؤں میں ایک صاحب کی اپنی بیوی کے ساتھ کچھ ان بن ہو گئی۔ ابھی جھگڑا ختم نہیں ہوا تھا کہ اسی اثناء میں ان کا مہمان آ گیا۔ خاوند نے اسے بیٹھک میں بٹھا دیا اور بیوی سے کہا کہ فلاں رشتہ دار مہمان آیا ہے اس کے لیے کھانا بناؤ۔ وہ غصّے میں تھی کہنے لگی تمہارے لئے کھانا ہے نہ تمہارے مہمان کے لئے۔وہ بڑا پریشان ہوا کہ لڑائی تو ہماری اپنی ہے،اگر رشتہ دار کو پتہ چل گیا تو خواہ مخواہ کی باتیں ہوں گی۔لہٰذا خاموشی سے آکر مہمان کے پاس بیٹھ گیا۔ اتنے میں
خیال آیا کہ چلو بیوی اگر روٹی نہیں پکاتی تو سامنے والے ہمارے ہمسائے بہت اچھے ہیں،خاندان والی بات ہے،میں انہیں ایک مہمان کا کھانا پکانے کے لیے کہہ دیتا ہوں چنانچہ وہ ان کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی کی طبیعت خراب ہے لہٰذا آپ ہمارے مہمان کے لئے کھانا بنا دیجئے۔انہوں نے کہا بہت اچھا،جتنے آدمیوں کا کہیں کھانا بنا دیتے ہیں۔وہ مطمئن ہو کر مہمان کے پاس آ کر بیٹھ گیا کہ مہمان کو کم از کم کھانا تو مل جائے گا جس سے عزت بھی بچ جائے گی۔تھوڑی دیر کے بعد مہمان نے کہا‘ذرا ٹھنڈا پانی تولا دیجئے۔ وہ اٹھا کہ گھڑے کا ٹھنڈا پانی لاتا ہوں۔اندر گیا تو دیکھا کہ بیوی صاحبہ تو زار و قطار رو رہی ہے۔ وہ بڑا حیران ہوا کہ یہ شیرنی اور اس کے آنسو۔کہنے لگا کیا بات ہے؟ اس نے پہلے سے بھی زیادہ رونا شروع کر دیا۔کہنے لگی: بس مجھے معاف کر دیں۔وہ بھی سمجھ گیا کہ کوئی وجہ ضرور بنی ہے۔اس بچارے نے دل میں سوچا ہوگا کہ میرے بھی بخت جاگ گئے ہیں۔ کہنے لگا کہ بتاؤ تو سہی کہ کیوں رو رہی ہو؟ اس نے کہا کہ پہلے مجھے معاف کر دیں پھر میں آپ کو بات سناؤں گی۔خیر اس نے کہہ دیا کہ جو لڑائی جھگڑا ہوا ہے میں نے وہ دل سے نکال دیا ہے اور آپ کو معاف کردیا ہے۔کہنے لگی‘کہ جب آپ نے آکر مہمان کے بارے میں بتایا اور میں نے کہہ دیا کہ نہ تمہارے لئے کچھ پکے گا اور نہ مہمان کے لئے،چلو چھٹی کرو تو آپ چلے گئے۔مگر میں نے دل میں سوچا کہ لڑائی تو میری اور آپ کی ہے، اور یہ مہمان رشتہ دار ہے،ہمیں اس کے سامنے یہ پول نہیں کھولنا چاہئے۔چنانچہ میں اٹھی کہ کھانا بناتی ہوں۔ جب میں کچن(باروچی خانہ) میں گئی تو میں نے دیکھا کہ جس بوری میں ہمارا آٹا پڑا ہوتا ہے،ایک سفید ریش آدمی اس بوری میں سے کچھ آٹا نکال رہا ہے۔میں یہ منظر دیکھ کر سہم گئی۔ وہ مجھے کہنے لگا: اے خاتون!پریشان نہ ہو یہ تمہارے مہمان کا حصّہ تھا جو تمہارے آٹے میں شامل تھا۔اب چونکہ یہ ہمسائے کے گھر میں پکنا ہے،اس لئے وہی آٹا لینے کے لئے آیا ہوں۔مہمان بعد میں آتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس کا رزق پہلے بھیج دیتے ہیں۔


ایک گاؤں میں ایک صاحب کی اپنی بیوی کے ساتھ کچھ ان بن ہو گئی۔ ابھی جھگڑا ختم نہیں ہوا تھا کہ اسی اثناء میں ان کا مہمان آ گیا۔ خاوند نے اسے بیٹھک میں بٹھا دیا اور بیوی سے کہا کہ فلاں رشتہ دار مہمان آیا ہے اس کے لیے کھانا بناؤ۔ وہ غصّے میں تھی کہنے لگی تمہارے لئے کھانا ہے نہ تمہارے مہمان کے لئے۔وہ بڑا پریشان ہوا کہ لڑائی تو ہماری اپنی ہے،اگر رشتہ دار کو پتہ چل گیا تو خواہ مخواہ کی باتیں ہوں گی۔لہٰذا خاموشی سے آکر مہمان کے پاس بیٹھ گیا۔ اتنے میں
خیال آیا کہ چلو بیوی اگر روٹی نہیں پکاتی تو سامنے والے ہمارے ہمسائے بہت اچھے ہیں،خاندان والی بات ہے،میں انہیں ایک مہمان کا کھانا پکانے کے لیے کہہ دیتا ہوں چنانچہ وہ ان کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی کی طبیعت خراب ہے لہٰذا آپ ہمارے مہمان کے لئے کھانا بنا دیجئے۔انہوں نے کہا بہت اچھا،جتنے آدمیوں کا کہیں کھانا بنا دیتے ہیں۔وہ مطمئن ہو کر مہمان کے پاس آ کر بیٹھ گیا کہ مہمان کو کم از کم کھانا تو مل جائے گا جس سے عزت بھی بچ جائے گی۔تھوڑی دیر کے بعد مہمان نے کہا‘ذرا ٹھنڈا پانی تولا دیجئے۔ وہ اٹھا کہ گھڑے کا ٹھنڈا پانی لاتا ہوں۔اندر گیا تو دیکھا کہ بیوی صاحبہ تو زار و قطار رو رہی ہے۔ وہ بڑا حیران ہوا کہ یہ شیرنی اور اس کے آنسو۔کہنے لگا کیا بات ہے؟ اس نے پہلے سے بھی زیادہ رونا شروع کر دیا۔کہنے لگی: بس مجھے معاف کر دیں۔وہ بھی سمجھ گیا کہ کوئی وجہ ضرور بنی ہے۔اس بچارے نے دل میں سوچا ہوگا کہ میرے بھی بخت جاگ گئے ہیں۔ کہنے لگا کہ بتاؤ تو سہی کہ کیوں رو رہی ہو؟ اس نے کہا کہ پہلے مجھے معاف کر دیں پھر میں آپ کو بات سناؤں گی۔خیر اس نے کہہ دیا کہ جو لڑائی جھگڑا ہوا ہے میں نے وہ دل سے نکال دیا ہے اور آپ کو معاف کردیا ہے۔کہنے لگی‘کہ جب آپ نے آکر مہمان کے بارے میں بتایا اور میں نے کہہ دیا کہ نہ تمہارے لئے کچھ پکے گا اور نہ مہمان کے لئے،چلو چھٹی کرو تو آپ چلے گئے۔مگر میں نے دل میں سوچا کہ لڑائی تو میری اور آپ کی ہے، اور یہ مہمان رشتہ دار ہے،ہمیں اس کے سامنے یہ پول نہیں کھولنا چاہئے۔چنانچہ میں اٹھی کہ کھانا بناتی ہوں۔ جب میں کچن(باروچی خانہ) میں گئی تو میں نے دیکھا کہ جس بوری میں ہمارا آٹا پڑا ہوتا ہے،ایک سفید ریش آدمی اس بوری میں سے کچھ آٹا نکال رہا ہے۔میں یہ منظر دیکھ کر سہم گئی۔ وہ مجھے کہنے لگا: اے خاتون!پریشان نہ ہو یہ تمہارے مہمان کا حصّہ تھا جو تمہارے آٹے میں شامل تھا۔اب چونکہ یہ ہمسائے کے گھر میں پکنا ہے،اس لئے وہی آٹا لینے کے لئے آیا ہوں۔مہمان بعد میں آتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس کا رزق پہلے بھیج دیتے ہیں۔


حد کا راز

حد کیا ہے.. حد کا راز کیا ہے؟
حد ... بظاہر روک ٹوک لگتی ہے.. حد بظاہر آزمائش درحقیقت عطا ہے. خیر اور محبت کا راز سموئے ہے. رضا کی نیت سے حد دیکھو گے تو خیر جانو گے. سزا کے خوف سے حد کا کراس کرنا کو دیکھو گے تو خوف و گناہ مانو گے..  جزا کی نیت سے دیکھو گے تو حد میں رہنے میں ثواب ڈھونڈو گے.. صرف محبت حد کا رمز عطا کرتی ہے جو دراصل رضا میں مخفی ہے!

جو محبوب کہے مان.لو.. جسے کہے چھوڑ دو. اسے چھوڑ دو..
جس سے محبوب کہے ...باز رہو.. اس سے باز رہو ..

خواہش محبت میں آزمائش ہے.. یہ حد تڑوانے آتی ہے.. اطاعت کرنے اور معصیت سے بچنے سے بڑا درجہ محبت کا ہے.  ویسے تو ہر خیر کی توفیق رب کی طرف سے ہے خواہ وہ اطاعت کی توفیق ہے یا معصیت سے بچنے کا ظرف..  وہ محبت ہے تو بھی رب کی توفیق سے ہے.. پس جو رب کے ماننے والے ہیں وہ اسکی حدود کا احترام کرنے والے ہیں..!

Author Name

[Story][hot]

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.