ضلع تھر پار کر میں ایک بزرگ مستری برکت علی تھےجو لوہار کا کام کرتے تھےایک دن ان کے پاس ایک مرزائاور آتے ہی اس نے مرزا قادیانی کو نبی ماننےاور سچا نبی ہونے پر یقین رکھنے اور پھر اس کے دین میں مستری صاحب کو داخل کرنے کے لیے تبلیغ شروع کر دی۔مستری صاحب اس وقت بیٹھے اپنے ہاتھ سے بنائی ایک کلہاڑی کی دھار تیز کرنے میں مصرو ف تھے۔مرزائی جب تک بولتا رہا یہ کلہاڑی کی دھار تیز کرنے میں مصروف رہے۔ جب دھار خوب تیز ہو گئی تویک دم اٹھے اور کلہاڑی کو اس مرزائی کی
پر رکھ دیا اور کہا:کہو! مرزا قادیانی بےایمان اور جھوٹا تھا اور ایسا ویسا تھا۔مستری صاحب نے جیسے جیسے کہا مرزائی ویسا ہی بولتا رہا۔گویا مستری صاحب نے اس مرزائی سے اقرار کرا لیا۔جب مستری صاحب مطمئن ہو گئے تووہی کلہاڑی اس مرزائی کے ہاتھوں میں تھما کر کہنے لگے۔اب کلہاڑی میری گردن پر رکھو اور مجھ سے کہو کہحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کروں۔اللہ کی قسم!میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤں گامگر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کاتصور بھی نہیں کر سکتا
Post a Comment