Latest Post

12:11 am


بعض لوگ اہلبیت اطہار رضی ﷲ عنہ کی شان اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جیسے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ سے ان کی مخاصمت اور لڑائی تھی یونہی اس کے بالعکس بعض لوگ شان صحابہ اسی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ اور اہلبیت اطھار رضی اﷲ عنہ کے درمیان بیحد محبت تھی ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی فضلیت پر احادیث بیان کرتے ہیں ۔

جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول اﷲ ﷺ کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا ؟ تو آپ فرماتی ہیں‘ فاطمہ رضی اﷲ عنہا۔

پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا؟ فرماتی ہیں‘ اْن کے شوہر یعنی حضرت علی رضی اﷲ عنہ۔ (ترمذی)

اسی طرح جب سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے پوچھا جاتا ہے کہ لوگوں میں سے رسول اﷲ ﷺ کو سب سے زیادہ پیارا کون تھا؟ تو آپ فرماتی ہیں‘ عائشہ رضی اﷲ عنہا۔

پھر پوچھا جاتا ہے کہ مردوں میں سے کون زیادہ محبوب تھا؟ تو آپ فرماتی ہیں‘ ان کے والد حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ۔ (بخاری)

اگر خدانخواستہ انکے درمیان کوئی مخاصمت یا رنجش ہوتی تو وہ ایسی احادیث بیان نہ کرتے۔ ایسی کئی احادیث اس کتاب میں پہلے بیان کی جا چکی ہیں‘ مزید چند احادیث سپرد قلم و قرطاس ہیں۔

سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ و سیدنا علی رضی اﷲعنہ کی باہم محبت

حضرت ابوبکر اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ درمیان کس قدر محبت تھی‘ اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے کیجیے۔ قیس بن ابی حازم رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے پوچھا‘ آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ ’’ میں نے آقا ومولیٰ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پل صراط پر سے صرف وہی گزر کر جنت میں جائے گا جس کو علی وہاں سے گزرنے کا پروانہ دیں گے۔‘‘

اس پر سیدنا علی رضی اﷲ عنہ ہنسنے لگے اور فرمایا‘ اے ابوبکر ! آپ کو بشارت ہو۔ میرے آقا ومولیٰ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ (اے علی!) پل صراط پر سے گزرنے کا پروانہ صرف اسی کو دینا جس کے دل میں ابوبکر کی محبت ہو۔(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ج۲:۵۵ امطبوعہ مصر،چشتی)

سیدنا علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ ایک دن مشرکین نے رسول کریم ﷺ کو اپنے نزغہ میں لے لیا۔ وہ آپ کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم رہی ہو جو کہتا ہے کہ ایک خدا ہے۔ خدا کی قسم ! کسی کو ان مشرکین سے مقابلہ کی جرأت نہیں ہوئی سوائے ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے۔ وہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مارمار کر اوردھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے اور فرماتے جاتے‘ تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخض کو ایذا پہنچا رہے ہو جو کہتا ہے کہ’’ میرا رب صرف اﷲ ہے۔‘‘ یہ فرما کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی ترہو گئی۔

پھر فرمایا ‘ اے لوگو! یہ بتاؤ کہ آل فرعون کا مومن اچھا تھا یا ابوبکر رضی اﷲ عنہ اچھے تھے؟ لوگ یہ سن کر خاموش رہے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے پھر فرمایا‘ لوگو! جواب کیوں نہیں دیتے۔ خدا کی قسم ! ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی زندگی کا ایک لمحہ آلِ فرعون کے مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر اور برتر ہے کیونکہ وہ لوگ اپنا ایمان ڈر کی وجہ سے چھپاتے تھے اور ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا۔ (تاریخ الخلفاء ۱۰۰)

حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے پاس سے گزرا اور وہ صرف ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے تھے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر بے ساختہ میری زبان سے نکلا‘ کوئی صحیفہ والااﷲ تعالٰی کو اتنا محبوب نہیںجتنا یہ کپڑا اوڑھنے والا اﷲ تعالٰی کو محبوب ہے۔ (تاریخ الخلفاء: ابن عساکر)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علیرضی اﷲ عنہ آئے اور سلام کر کے کھڑے ہوگئے۔ حضور منتظر رہے کہ دیکھیں کون ان کے لئے جگہ بناتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ آپ کی دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ اپنی جگہ سے اْٹھ گئے اور فرمایا‘ اے ابوالحسن ! یہاں تشریف لے آئیے۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ‘ حضور ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے درمیان بیٹھ گئے۔ اس پر آقا ومولٰی ﷺ کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا‘ ’’اہل فضل کی فضلیت کو صاحب فضل ہی جانتا ہے۔‘‘ اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ عنہ کی بھی تعظیم کیا کرتے۔ (الصواعق المحرقتہ: ۲۶۹)

ایک روز حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرما تھے کہ اس دوران امام حسن رضی اﷲ عنہ آگئے جو کہ اس وقت بہت کم عمر تھے۔ امام حسن رضی اﷲ عنہ کہنے لگے‘ میرے بابا جان کے منبر سے نیچے اتر آئیے۔ سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ ’’ تم سچ کہتے ہو۔ یہ تمہارے باباجان ہی کا منبرہے۔‘‘ یہ فرما کر آپ نے امام حسن رضی اﷲ عنہ کوگود میں اٹھا لیا اور اشکبار ہوگئے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا‘ خدا کی قسم! میں نے اس سے کچھ نہیں کہا تھا۔
سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : آپ سچ کہتے ہیں‘ میں آپ کے متعلق غلط گمان نہیں کرتا۔(تاریخ الخلفاء: ۱۴۷‘ الصواعق: ۲۶۹)

ابن عبدالبررحمہ اﷲ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ اکثر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھا کرتے۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا‘ میں نے آقا و مولٰی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی رضی اﷲ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔(الصواعق المحرقتہ: ۲۶۹،چشتی)

ایک روز سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ تشریف فرماتھے کہ سیدنا علی رضی اﷲ عنہ آگئے۔ آپ نے انہیں دیکھ کر لوگوں سے فرمایا‘ جو کوئی رسول کریم ﷺ کے قریبی لوگوں میں سے عظیم مرتبت‘ قرابت کے لحاظ سے قریب تر‘ افضل اور عظیم تر حق کے حامل شخص کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے وہ اس آنے والے کو دیکھ لے۔ (الصواعق المحرقتہ:۲۷۰‘ دار قطنی)

سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے سب سے زیادہ بہادر ہونے سے متعلق سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کا ارشاد پہلے تحریر ہو چکا‘ اگر انکے مابین کسی قسم کی رنجش ہوتی تو کیا یہ دونوں حضرات ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے؟ یہ احادیث مبارکہ ان کی باہم محبت کی واضح مثالیں ہیں۔

سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ و سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کی باہم محبت

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ دورِفاروقی میں مدائن کی فتح کے بعد حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے مسجد نبوی میں مال غنیمت جمع کر کے تقسیم کرنا شروع کیا۔ امام حسن رضی اﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں ایک ہزار درہم نذر کیے۔پھر امام حسین رضی اﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں بھی ایک ہزار درہم پیش کیے۔ پھر آپ کے صاحبزادے عبداﷲ رضی اﷲ عنہ آئے تو انہیں پانچ سودرہم دیے۔ انہوں نے عرض کی‘ اے امیرالمٔومنین ! جب میں عہد رسالت میں جہاد کیا کرتا تھا اس وقت حسن و حسین بچے تھے۔ جبکہ آپ نے انہیں ہزار ہزار اور مجھے سو درہم دیے ہیں۔

حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ تم عمر کے بیٹے ہو جبکہ ان والد علی المرتضٰی‘ والدہ فاطمۃ الزہرا‘ نانا رسول اﷲ ﷺ‘ نانی خدیجہ الکبریٰ‘ چچا جعفر طیار‘ پھوپھی اْم ہانی‘ ماموں ابراہیم بن رسول اﷲﷺ‘ خالہ رقیہ و ام کلثوم و زینب رسول کریم ﷺکی بیٹیاں ہیںرضی اﷲ عنہ۔ اگر تمہیں ایسی فضیلت ملتی تو تم ہزار درہم کا مطالبہ کرتے۔ یہ سن کر حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ خاموش ہو گئے۔

جب اس واقعہ کی خبر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کوہوئی تو انہوں نے فرمایا‘ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ’’عمر اہل جنت کے چراغ ہیں۔‘‘ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا یہ ارشاد حضرت عمر رضی اﷲ عنہ تک پہنچا تو آپ بعض صحابہ کے ہمراہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے گھر تشریف لائے اور دریافت کیا‘ اے علی! کیا تم نے سنا ہے کہ آقاو مولی ﷺ نے مجھے اہل جنت کا چراغ فرمایا ہے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ ہاں! میں نے خود سنا ہے۔

حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ اے علی! میری خواہش ہے کہ آپ یہ حدیث میرے لیے تحریر کردیں۔ سیدنا علی رضی اﷲ عنہ نے یہ حدیث لکھی : یہ وہ بات ہے جس کے ضامن علی بن ابی طالب ہیں عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے لئے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا‘ اْن سے جبرائیل علیہ السلام نے‘ اْن سے اﷲ تعالٰی نے کہ:ان عمر بن الخطاب سراج اھل الجنۃ ۔ ترجمہ : عمر بن خطاب اہل جنت کے چراغ ہیں ۔ سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کی یہ تحریر حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے لے لی اور وصیت فرمائی کہ جب میرا وصال ہو تو یہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا۔ چنانچہ آپ کی شہادت کے بعد وہ تحریر آپ کے کفن میں رکھ دی گئی۔(ازالتہ الخفاء، الریاض النضرۃ ج ا:۲۸۲)

اگران کے مابین کسی قسم کی مخاصمت ہوتی تو کیا دونوں حضرات ایک دوسرے کی فضیلت بیان فرماتے ؟ یہ واقعہ ان کی باہم محبت کی بہت عمدہ دلیل ہے ۔

دارقطنی رحمہ اﷲ نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے کوئی بات پوچھی جس کا انہوں نے جواب دیا۔ اس پر حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ اے ابوالحسن! میں اس بات سے اﷲ تعالٰی کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں میں رہوں جن میں آپ نہ ہوں۔
(الصواعق المحرقتہ: ۲۷۲)

اس واقعہ سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عمررضی اﷲ عنہ کو حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے کس قدر محبت تھی

حضرت عمررضی اﷲ عنہ امورِ سلطنت کے وقت کسی سے نہیں ملے تھے۔ آپکے صاحبزادے عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نے ملاقات کی اجازت طلب کی تو نہیں ملی۔ اس دوران امام حسن رضی اﷲ عنہ بھی ملاقات کے لیے آگئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی اﷲ عنہ کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی اجازت نہیں ملے گی۔ یہ سوچ کر واپس جانے لگے ۔ کسی نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو اطلاع کر دی تو آپ نے فرمایا‘ انہیں میرے پاس لاؤ۔ جب وہ آئے تو فرمایا‘ آپ نے آنے کی خبر کیوں نہ کی؟ امام حسنرضی اﷲ عنہ نے کہا‘ میں نے سوچا‘ بہت بیٹے کو اجازت نہیں ملی تو مجھے بھی نہیں ملے گی ۔ آپ نے فرمایا‘ وہ عمر کا بیٹا ہے اور آپ رسول اﷲﷺ کے بیٹے ہیں اس لیے آپ اجازت کے زیادہ حقدار ہیں۔ عمررضی اﷲ عنہ کو جو عزت ملی ہے وہ اﷲ کے بعد اسکے رسول اﷲ رضی اﷲ عنہ اور اہلبیت کے ذریعے ملی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آئندہ جب آپ آئیں تو اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں۔ (الصواعق المحرقتہ: ۲۷۲،چشتی)

ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں جس سے سیدنا عمرو علی رضی اﷲ عنہ میں محبت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ حضرت ابوبکررضی اﷲ عنہ جب شدید علیل ہو گئے تو آپ نے کھڑکی سے سر مبارک باہر نکال کر صحابہ سے فرمایا‘ اے لوگو! میں نے ایک شخص کو تم پر خلیفہ مقرر کیا ہے کیا تم اس کام سے راضی ہو؟

سب لوگوں نے متفق ہو کر کہا‘ اے خلیفئہ رسول ﷺ! ہم بالکل راضی ہیں۔ اس پر سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا‘وہ شخص اگر عمر رضی اﷲ عنہ نہیں ہیں تو ہم راضی نہیں ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ بیشک وہ عمر ہی ہیں ۔ (تاریخ الخلفاء:۱۵۰‘ عساکر)

اسی طرح امام محمد باقر رضی اﷲ عنہ حضرت جابر انصاری رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وصال کے بعد حضرت عمررضی اﷲ عنہ کو غسل دیکر کفن پہنایا گیاتو حضرت علی رضی اﷲ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے‘ ان پر اﷲ تعالٰی کی رحمت ہو‘ میرے نزدیک تم میں سے کوئی شخص مجھے اس (حضرت عمررضی اﷲ عنہ) سے زیادہ محبوب نہیں کہ میں اس جیسا اعمال نامہ لیکر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں۔(تلخیص الشافی:۲۱۹‘ مطبوعہ ایران)

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات میں کس قدر پیار و محبت تھی۔ اور فاروقی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ جب ایک حاسد شخص نے حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ عنہ سے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی متعلق سوال کیا تو آپ نے ان کی خوبیاں بیان کیں پھر پوچھا‘ یہ باتیں تجھے بری لگیں؟ اس نے کہا‘ ہاں ۔ آپ نے فرمایا‘ اﷲ تعالٰی تجھے ذلیل و خوار کرے۔ جادفع ہو اور مجھے نقصان پہنچانے کی جو کوشش کر سکتا ہو کر لے۔ (بخاری باب مناقب علی)

حضرت عمررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا‘ ’’قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سواہر سلسلۂ نسب منقطع ہو جائے گا’’۔ اسی بنا پر سیدنا عمررضی اﷲ عنہ نے سیدنا علی رضی اﷲ عنہ سے انکی صاحبزادی سیدہ اْم کلثوم رضی اﷲ عنہا کا رشتہ مانگ لیا۔ اور ان سے آپ کے ایک فرزند زیدرضی اﷲ عنہ پیدا ہوئے۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا یہ ارشاد بھی قابلِ غور ہے‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ جب تم صالحین کا ذکر کرو تو حضرت عمررضی اﷲ عنہ کو کبھی فراموش نہ کرو۔‘‘ (تاریخ الخلفاء: ۱۹۵)

سیدنا علی رضی اﷲ عنہ اور عظمت شیخین رضی اللہ عنہما

سیدنا علی رضی اﷲ عنہ اور حضرات شیخین رضی اﷲ عنہا ایک دوسرے کی خوشی کو اپنی خوشی اور دوسرے کے غم کو اپنا غم سمجھتے تھے۔ شعیہ عالم ملا باقر مجلسی نے جلا ء العیون صفحہ ۱۶۸ پر لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو نبی کریم ﷺ سے سیدہ فاطمہ کا رشتہ مانگنے کے لیے حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہ نے قائل کیا۔ اسی کتاب میں مرقوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہ کی شادی کے لیے ضروری سامان خریدنے کے لیے سیدبا ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو ذمہ داری سونپی تھی۔ اس سے معلوم ہواکہ سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو رسول ﷺ کے گھریلو معاملات میں بھی خاص قرب حاصل تھا ۔

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے جسم اقدس کے پاس کھڑا تھا کہ ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آکر میرے کندھے پر اپنی کہنی رکھی اور فرمایا‘ اﷲتعالٰی آپ پر رحم فرمائے! بے شک مجھے امید ہے کہ اﷲتعالٰی آپ کو آپ کے دونوں دوستوں (یعنی حضور اکرم ﷺاور ابوبکر صدیقرضی اﷲ عنہ)کا ساتھ عطا کرے گا کیونکہ میں نے بار ہا رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’میں تھا اور ابوبکر و عمر‘’میں نے یہ کہا اور ابوبکر و عمر نے‘’میں چلا اور ابوبکر و عمر‘’میں داخل ہوا اور ابوبکر و عمر‘’میں نکلا اور ابوبکر و عمر‘۔ (رضی اﷲ عنہا) میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ تھے۔ (بخاری المناقب‘ مسلم کتاب الفضائل الصحابہ،چشتی)

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ رسول کریم ﷺ سے خصوصی قرب ومحبت کے باعث سیدنا ابوبکرو عمر رضی اﷲ عنہ سے دلی محبت رکھتے تھے۔

ایک شخص نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا‘ میں نے خطبہ میں آپ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ’’ اے اﷲ! ہم کو ویسی ہی صلاحیت عطا فرما جیسی تو نے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کو عطا فرمائی تھی‘‘۔ ازراہِ کرم آپ مجھے ان ہدایت یاب خلفائے راشدین کے نام بتا دیں۔ یہ سن کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا : وہ میرے دوست ابوبکر اور عمر رضی اﷲ عنہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک ہدایت کا امام اور شیخ الاسلام تھا۔ رسول کریم ﷺ کے بعد وہ دونوں قریش کے مقتدیٰ تھے‘ جس شخص نے ان کی پیروی کی وہ اﷲ تعالٰی کی جماعت میں داخل ہو گیا۔(تاریخ الخلفاء: ۲۶۷)

یہی واقعہ شیعہ حضرات کی کتاب تلخیص الشافی جلد ۳ صفحہ ۳۱۸ پر امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ نے امام باقر رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں‘ یہ بات صحیح روایات سے ثابت اور تواتر سے نقل ہوتی چلی آئی ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ اپنی خلافت کے زمانے میں اپنے رفقاء کے سامنے حضرت ابوبکرو عمر رضی اﷲ عنہ کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ ان کی افضلیت کو برملا اور علانیہ بیان کرتے رہے ہیں ۔ علامہ ذہبی رحمہ اﷲ نے اسی سے زیادہ حضرات سے صحیح سندوں کے ساتھ ثابت کیا ہے اور صحیح بخاری کے حوالے سے بھی بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا‘ نبی کریم ﷺ کے بعد سب لوگوں سے افضل ترین ابوبکر رضی اﷲ عنہ ہیں پھرعمررضی اﷲ عنہ۔ آپ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ رضی اﷲ عنہ نے کہا‘ پھر آپ؟ تو آپ تو فرمایا‘ میں ایک عام مسلمان ہوں۔ (تکمیل الایمان: ۱۶۶)

سیدنا علی رضی اﷲ عنہ نے انہیں سیدنا ابوبکر و عمررضی اﷲ عنہ سے افضل کہنے والوں کے لیے درّوں کی سزا تجویز فرمائی ہے‘ شعیہ حضرات کی اسماء الرجال کی معتبر کتاب رجال کشی کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔ سفیان ثوری‘ محمد بن سکندر رحہما اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کے منبر پربیٹھے ہوئے دیکھا کہ وہ فرمارہے تھے‘ اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص آئے جو مجھے ابوبکر وعمر رضی اﷲ عنہ پر فضیلت دیتا ہوتو میں اس کو ضرور دْرّے لگائوں گا جو کہ بہتان لگانے والے کی سزا ہے ۔ (تکمیل الایمان: ۱۶۶‘ سنن دارقطنی‘ رجال کشی۳۳۸ مطبوعہ کربلا،چشتی)

شیعوں کی اسی کتاب میں سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کا فتویٰ موجود ہے کہ ’’حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی محبت ایمان ہے اور ان کا بغض کفر ہے۔‘‘ (رجال کشی : ۳۳۸)

پھر اعلی حضرت رحمہ اﷲ فرماتے ہیں‘ محبت علی مرتضٰی رضی اﷲ عنہ کا یہی تقاضا ہے کہ محبوب کہ اطاعت کیجیے (یعنی سیدنا ابوبکروعمر رضی اﷲ عنہ کو ساری امت سے افضل مانیے) اور اْس کو غضب اوراسی کوڑوں کے استحقاق سے بچئے ۔ اعتقادالاحباب:۵۶)

شیعہ حضرات یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ ’’یہ ساری باتیں تقیہ کے طور پر کہی گئی تھیں۔ یعنی حضرت علی رضی اﷲ عنہ حضرات شیخین کی تعریف محض جان کے خوف اور دشمنوں کے ڈر سے کیا کرتے تھے۔ اگر ایسا نہ کرتے تو ان کی جان کو خطرہ تھا مگر دلی طور پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ حضرات شیخین کے خلاف تھے ۔ شعیوں کے اس بیان میں قطعاً کوئی صداقت نہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ جو شیرخدا تھے اور مرکز دائرہ حق تھے‘ اتنے بزدل‘ مغلوب اور عاجز ہو گئے تھے کہ وہ حق بیان کرنے سے قاصر رہے اور ساری زندگی خوف وعجز میں گزار دی‘ پھر اسدْاﷲ الغالب کا لقب کیا معنی رکھتا ہے ؟ ۔ (تکمیل الایمان: ۱۶۷)

سیدنا علی المرتضٰی حیدر کرار رضی اﷲ عنہ سے محبت کا دعویٰ کرنے والے آپ کے یہ ارشاد بھی دل کے کانوں سے سن لیں ۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں‘ رسول کریم ﷺ کے بعد تمام لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہ سب سے بہتر ہیں۔ کسی مومن کے دل میں میری محبت اور ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہ کا بغض کبھی یکجا نہیں ہو سکتے ۔ (تاریخ الخلفاء: ۱۲۲‘ معجم الاوسط)(

صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت

صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی آپس میں محبت : بالخصوص چاروں خلفاء راشدین اور اہلبیت اس قدر مضبوط و مستحکم، خاندانی و ایمانی رشتوں میں بندھے ہوئے تھے کہ اس تعلق کو کوئی بھی ایک دوسرے سے ختم نہیں کر سکا ۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضور سرور انبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر ہیں۔ کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئی تھیں۔ خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہیں ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں اور خاتون جنت سیدہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں۔ سبحان اللہ !! کیا عالی شان تقسیم ہے کہ دو خلفاء حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر اور دو خلفاء داماد ہیں۔ جب امُ المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں تو ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ حضور کے سسر ہوئے۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی اور حضرت ابو سفیان کے بیٹے) کے بہنوئی ہوئے ۔

حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما چونکہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کی بہنیں تھیں لٰہذا حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی خالہ ہوئیں اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خالو جان ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا چونکہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کے نانا جان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں تھیں تو یہ تینوں مقدس خواتین حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی نانیاں ہوئیں۔ سبحان اللہ !! غور کیجئے صحابہ کرام اور اہلبیت کو اللہ تعالٰی نے کتنی گہری وابستگی عطا فرمائی ہے۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی اور پیغمبر اسلام کی حقیقی نواسی ہیں ۔

امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ ان کی خاندانِ نبوت سے رشتہ داری قائم ہو جائے، چنانچہ آپ نے اپنی اس خواہش کا اظہار حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ کی اس درخواست کو قبول فرما لیا اور اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت زید بن عمر رحمتہ اللہ علیہ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہی کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عمر زیادہ تھی مگر اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی کم عمر بیٹی کا ان سے نکاح کر دیا۔ یہ واقعہ ان اسلام دشمن قوتوں کے لئے عبرت کا تعزیانہ ہے جو بظاہر اہلبیت سے اپنی محبت کا ظاہری دم بھرتے ہیں اور جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں گستاخی کرکے اپنی آخرت کو برباد کرتے ہیں، اور نعوذ باللہ ان پر سب و شتم کر کے اپنے اعمال کو سیاہ اور داغدار کرتے ہیں ۔ کوئی ان ظالموں سے پوچھے اے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی گستاخی کرنے والو ! تمہارا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جنہوں نے بقول تمہارے ایک غاصب، ظالم اور مرتد سے اپنی کمسن صاحبزادی کا نکاح کر دیا ؟ ذرا سوچئے ! اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نعوذ باللہ ظالم ہوتے تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی انہیں دیتے؟ ہرگز نہیں۔۔! مسلمانو ! ابتدائے اسلام ہی سے اسلام دشمن قوتوں نے مسلمانوں کے ذہنوں کو خراب کرنے کے لئے صحابہ کرام اور اہلبیت کے مابین اختلاف ابھارا تاکہ بعد میں آنے والے مسلمانوں کو انتشار کا شکار کر دیا جائے ۔

ان کی یہ کوشش ہوتی کہ جماعتِ صحابہ کی کوئی ایسی بات پکڑی جائے جسے اہلبیت کے خلاف ابھارا جا سکے اور اس طرح اہلبیت کی محبت ظاہر کر کے صحابہ کرام کی توہین کی جا سکے۔ آج بھی یہود و نصارٰی کے آلہ کار اس ناپاک سازش میں مصروف ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان میں گستاخی کرکے اپنے بغض و حسد کی آگ کو ٹھنڈا کر رہے ہیں۔ حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور اہلبیت رضوان اللہ علیھم اجمعین میں کسی نوعیت کا کوئی ذاتی اختلاف نہ تھا۔ وہ تو ایک دوسرے سے رشتے داریاں کرتے، گویا قدرت نے انہیں ایک لڑی میں پرو دیا تھا ۔ اللہ پاک ہمیں سب صحابہ کرام اور تمام اہلبیت رضی اللہ عنہم سے سچی اور حقیقی محبت نصیب فرمائے آمین ۔
(طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

انٹیلیجنس -

انٹیلیجنٹ لوگوں کا کام ہے


عام تعلیم صرف ایک راستہ ہے،منزل نہیں ،تعلیم ہنر مند نہیں بناتی ڈاکٹر عبد القدیر خان ،ایک معمولی سا اپنڈکس کا آپریشن نہیں کر سکتا
اور نہ ہی ایک سرجن اپنی گاڑی ٹھیک کر سکتا ہے
دنیا کی پیچیدہ ترین تعلیم ہے انٹیلیجنس ،یہ کام کیسے ہوتا ہے ،کون کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے ،یہ عقل سے سمجھا نہیں جا سکتا اور نہ ہی کسی بھی قسم کی تعلیم اس کا احاطہ کر سکتی ہے ،اور نہ دانشوری سے غلط یا صحیح ثابت کیا جا سکتا ہے جاسوسی ایک انتہائی مشکل کام ہے یہ بارڈر پر ٹینک کا گولہ چھاتی پر کھانے سے بھی مشکل ہے یہ ایک ایسی گمنام زندگی ہے ،جس کا کسی کو ادراک بھی نہیں ہو سکتا ،مجھے پاکستانی پڑھے لکھے دانشوروں کے دلائل حیرت میں ڈال دیتے ہیں یا انکو علم نہیں یا پھر پڑھے لکھے جاہل ہیں
انٹیلیجنسی نوکری نہیں ،پیشہ نہیں ،ذریعہ معاش نہیں ہر لمحہ ایک مشن کا نام ہے
اور یہ بڑے با کمال لوگ ہوتے ہیں چونکہ ان کی داستانیں فلموں کی طرح لکھی نہیں جاتیں ،اور نہ جنگجوؤں کی طرح بیان کی جاتی ہیں ،اس لیئے لوگ یہ سمجھتے ہیں ،یہ بھی ایک نوکری ہے جسکی لوگ تنخواہ لیتے ہیں
یہ واحد کام ہے جس کی تنخواہ بندہ خود نہیں لیتا ،ہمارا ایک جاسوس تین سال خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رح کے مزار پر ملنگ بن کر رہا ،ادھر سے ہلا نہیں ،کھاتا لنگر سے اور سوتا زمین پر تھا ،آخر اسے انڈین انٹیلیجنس نے پکڑ لیا ،بہت مارا ،اتنا مارا کہ اس کے اندر سےخون بہنا شروع ہو گيا ،جب انہیں یقین ہو گيا کہ اب یہ زندہ نہیں رہے گا تو پھینک دیا ،اسے دہلی پاکستانی سفارت خانے لایا گيا ،علاج ہوا اور ٹھیک ہوا اب ہر تعلیم یافتہ یہی سوچے گا ،انہوں نے اسے قتل کیوں نہیں کیا 🤔
تو جناب اگر وہ قتل کرتے تو انکا ایک ایجنٹ یا سفارت کار ادھر قتل ہو جاتا ،اور اگر اسے ملک سے ناپسندیدہ کہہ کے نکالتے تو پاکستان انکا ایک نکال دیتا ،جو ہو سکتا ہے بہت اہم کام کر رہا ہو ،روزانہ لاکھوں لوگ کراچی جاتے اور آتے ہیں ،اب ان میں ایک جاسوس بھی گھس جائے تو کسی کو کیا پتہ کون ہے اور کدھر ہے
اب ایک آدمی جو اسرائیل سے ٹرینگ لیتا ہے ،پشتو سیکھتا ہے ،سارے طور طریقے سیکھتا ،جب مکمل ٹرینڈ ہو جاتا ہے تو افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے ،پاکستانی پشتون لباس میں ،پشتو پٹھانوں کی طرح بولتا ہے لباس انہی کی طرح پہنتا ہے ،نسوار تک کھاتا ہے قہوہ پیتا ہے ،کباب کھاتا ہے ،پاکستانی شناختی کارڈ رکھتا ہے ،حلیئے سے بھی پاکستانی لگتا ہے ،اور یہاں کام کرنا شروع کر دیتا ہے ،خود کش حملے کرواتا ہے ،پہلے موجود ایجنٹوں کے ساتھ رابطے کرتا ہے بنوں میں موجود ایک یہودی جو عالم بنا ہوا تھا سے مدد لیتا ہے جو وہاں وہاں دس سے مسجد اور مدرسہ چلا رہا ہوتا ہے ،پولیس پر ،فوج پر ،سیاستدانوں پر ،شہریوں پر حملے کرواتا ہے ،ملکی ادارے اس گمنام جاسوس کو ڈھونڈھتے ہیں ،کہ دھماکہ ہوا کیا تو اس نے کروایا کس نے جب مدرسے پر آدھی رات کو چھاپا پڑتا ہے تو مولوی بھاگ جاتا ہے،اور لوگوں کو کہتا ہے یہ دھماکے آئی ایس آئی کرواتی ہے ،اور فوج پٹھانوں کی دشمن ہے ،لوگ بھی سوچتے ہیں جو بندہ ہمیں قرآن اور حدیث پڑھاتا رہا وہ کیسے جھوٹ بول سکتا ہے ،اس مولوی کے مسجد کے تہہ خانے سے کیمپیٹر اور تمام ریکارڈ قبضے میں لیا جاتا ہے ،اسے ڈیکوڈ کیا جاتا ہے ،اور جب اسکے ساتھیوں کی تلاش شروع کی جاتی ہے ،تو پتہ چلتا ہے مولانا صاحب تو کابل سے دوبئی فرار ہو چکے ہیں اور وہاں سے انہیں گرفتار کیا جاتا ہے ،باقی سارے آپریٹر بھی بھاگ جاتے ہیں
لیکن ایک چھپتا رہتا ہے اور اپنا کام جاری رکھتا ہے بے پناہ پیسہ اس کے پاس ہوتا ہے ہر جگہ رشوت لینے والی انتظامیہ کو خوش کرتا رہتا ہے ،لیکن ایک جاسوس جو اسے پہچان لیتا ہے ،اور مقامی پولیس سے مدد مانگتا ہے ،لیکن کسی نہ کسی طریقے سے پیسوں کے زور پر انٹیلیجنس فورس کے پہنچنے سے پہلے فرار ہو جاتا ہے ،اور کابل کے راستے امریکا بھاگ جاتا ہے امریکی ادارے اسکے کام سے بہت خوش ہوتے ہیں اور پاکستانی سفیر کو کہتے ہیں ،جتنی سہولت چاہیئے لے لو جتنے ڈالر چاہیئیں لے لو ،کسی طریقے سے یہ بندہ پاکستان میں دوبارہ بھجوا دو سفیر صاحب اسکو لا محدود ویزہ عطا فرماتے ہیں ،اور پاکستانی وزیر داخلہ کو کہتے ہیں ،اس بندے کو رن وے سے ہی گاڑی میں ڈالو اور لاہور امریکی سفارت خانے پہنچا دو
بندہ وہاں پہنچ جاتا ہے ،اور پھر چند ہفتے بعد دھماکے شروع ہو جاتے ہیں ،وہی کام کہ کون کرواتا ہے پتہ چلتا ہے وہی بندہ ہے لیکن اب ----- خان کے نام سے نہیں ریمنڈ ڈیوس کے نام سے کام کر رہا ہے ،نگرانی شروع ہوتی ہے ،،کوئی بھی ملک جس کو ویزہ دے دے وہ ایک معاہدہ سمجھا جاتا ہے ،اسکو کینسل آسانی سے نہیں کیا جا سکتا ،اگر اسے نکالتے ہیں تو اس کے بدلے ایک انتہائی آدمی امریکا سے باہر کر دیا جائے گا ،قید آپ اسے نہیں کر سکتے ،سزا اسے نہیں دے سکتے بھائی آپ کی سلطنت نے اسے تحفظ کا لکھ کر دیا ہے
یہ پاکستانی پولیس نہیں کہ چرس میں اندر کردو ،سمگلنگ ڈال دو ،جعلی اسلحہ ڈال دو اور اندر کر دو ،کسی غیر ملکی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا
پھر کیا حل ہے ،نکال آپ نہیں سکتے ،قید آپ نہیں کر سکتے گولی آپ نہیں مار سکتے ، تو اگر وہ عقل مند ہیں تو کیا اور لوگ نہیں ہو سکتے
پھر اسکے پیچے دو بندے لگا دیئے جاتے ہیں ،وہ جونہی ایمبیسی سے نکلتا ہے
وہ موٹر سائیکل پر اسکے پیچھے ،وہ بندا اپنی تمام چالاکیوں اور ہوشیاری کے باوجود مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے ،اسکے مالک ریزلٹ مانگتے ہیں ،دھماکے کرواؤ ،وہ ہل نہیں سکتا ،جو اسے ملنے جاتا ہے دو بندے اسکے پیچھے لگا دیئے جاتے ہیں ،جس ورکشاب میں بظاہر ایک مستری جو کہ مقامی ہے اور اس کے لیئے کام کرتا ہے
اسے بارودی مواد گاڑی میں فٹ کرنے کے الزام میں اندر کر دیا جاتا ہے ،ہر اسکا مقامی ساتھی یا غائب کر دیا جاتا ہے یا گرفتار
وہ بندہ بلکل پاگل ہو جاتا ہے
اور دو بندوں کو کہا جاتا ہے بس اسے ڈراؤ ،یہ سمجھے کہ یہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں وہ خوف ذدہ ہوکر اور زج ہو کر انہیں قتل کر دیتا ہے ،گرفتار ہوتا ہے ،اسرائیل اور امریکا کو غشی کے دورے پڑتے ہیں ،امریکی صدر ٹی وی پر اسے ڈپلومیث کہتا ہے سارے بیک اور فرنٹ ڈور سارے کھل جاتے ہیں خزانوں کے منہ کھول دیئے جاتے ہیں ،ویسے بھی انکا ایک روپیہ ہمارے 104 کے برابر ہے
جان کیری دوڑتا آتا ہے امریکی جنرل جو افغانستان میں ہے وہ بھاگآ بھاگآ آتا ہے
وہ جاہل جو کہتے ہیں ہم امریکا کے غلام ہیں ،تو آقا غلام کے پاس نہیں آتا علام کو سمن جاری کرتا ہے انٹیلیجنس کا کام انٹیلیجنس والے ہی کرتے ہیں ،کیری کو کہا جاتا ہے سی آئی اے چيف کو بھیجو ،سی آئي اے چيف براسطہ افغانستان آدھی رات کو چکلالہ ایرپورٹ پر اترتا ہے ،ڈی جی آئی ایس آئی سے ملتا ہے
پہلا مطالبہ جتنے ایجنٹ ہیں انکی لسٹ دو ،وہ بہت اوں آن کرتا ہے اور آخر کار 3600 لوگوں کی ایک لسٹ دیتا ہے آپ لوگوں کو یاد ہوگآ زرداری دور میں چار بیریکیں امریکی اسلام آباد کے سفارت خانے میں تعمیر کی گئي تھیں ،پھر امریکا انتنا مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ 3300 لوگ واپس نکالنے پر مجبور ہو جاتا ہے ،انہی دنوں جھنگ باہتر کے قریب ایک پل پر ایک غیر ملکی کالا چٹا پہاڑ کی فوٹو گرافی کر رہا ہوتا ہے جسے سنائپر گولی مار دیتا ہے ایک کہوٹہ کے پاس قتل کر دیا جاتا ہے امریکا مذید دباؤ میں آ جاتا ہے
امریکا فوجی ،مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے پاؤں پکڑتا ہے
فوجی قیادت کہتی ہے ہمیں ایف سولہ کیلئے نائٹ ٹارگٹ کو ہٹ کرنے والی کٹس چاہیئے ،امریکا بمشکل مان جاتا ہے ،یاد رہے یہی وہ کٹس تھیں جنہوں نے زیر زمیں بنکر وزیرستان میں تباہ کیئۓ ،اور صفایا کیا ٹی ٹی پی کا ،ایک مسلح گروہ جو امریکا جیسے ملک سے 10 سال میں قابو نہیں آیا ،چند مہینوں ختم کر دیا گيآ
نقد پیسے بھی سی آئی آے نے دیئے جو پھر انہیں کے خلاف استعمال ہوئے
نیوی کیلئے میزائیل ،آرمی کیلئۓ ٹارگٹ ڈیٹکٹرز اور لا تعداد اسلحہ جو صرف ایک جاسوس کے عوض ملا ،یہ سودا پیسوں کیلئۓ نہیں
ہزاروں پاکستانیوں کی جان بھی بچائی گئي ،اس نیٹ ورک ٹوٹنے کے بعد لاہور
میں کوئی بڑا دھماکہ نہیں ہوا
اگر انسانی جان کی قیمت وہ ہے جو تم لوگ لگاتے ہو تو پھر بارڈر سے فوج بھی ہٹا لو کیونکہ وہاں مر جاتے ہیں ،وطن کے بیٹے وطن کیلئے قربانی دیتے ہیں
جن دو نے قربانی دے کر ہزاروں کی جان بچائی وہ ہیرو ہیں
وطن کے سپاہی وطن کی امانت ہوتے ہیں
انٹیلیجنس میں ایک جان دے کر سینکڑوں جانیں بچائی جاتی ہیں

اسلام علیکم،
 دوستو اب وقت آگیا ہے کہ فیس بک کو بند کر دیں اور پاکستان کا اسلامک سوشیل میڈیا جوائن کریں.
 اس میں یہ صرف مسلمانوں کا سوشیل میڈیا ہے جس کی آپ کو ضرورت ہے اور اس پر کیسی کی جرات نھیں کہ وہ اسلام کے خلاف کوئی بات کرے اس کا سب سے زیادہ فائدا ھم پاکستانی عوام کو ہے اورسب سے بڑی بات ہے ہے کہ یہاں آپ کو اپنا  ٹائم لگانے کے پیسے ملتے ہیں مطلب اگر آپ کو کوئی پوسٹ اچھی لگتی ہے اور آپ اس کو لائک کرتے ہیں تو سوشیوآن
اس کے بدلے اپکوپیسے دیتا ھے تو جلدی سے جلد سوشیوآن جوائن کریں اور اس سے فائدا حاصل کریں


سوشیوآن پر اپنا اکاونٹ کیسے بنائیں:-

اسلام و علیکم سب سے پھلے آپ اس
لنک پر کلک کریں گے جوائن کریں یہاں سے
اور تصویر کے حصاب سے سٹینگ کریں


سب سے پہلے اپنا اصل نام لکھیں.

پھر اپنا ورکنگ جی میل آئی ڈی لگائیں
پھر اپنا پاسورڈ بنائیں
پھر سہی ڈیٹ آف برتھ
پھر میل / فی میل سلکٹ کریں
پھر آپ سائن اپ پر کلک کریں
اس کے بعد
یہ پیج سامنے آئے گا



اس میں کنٹری سلکٹ کریں
اپنا موبائل نیٹ ورک سلکٹ کریں
اور پھر اپنا نمبر لیکھیں
اور نکسٹ کر دیں
پھر اس پیج پر


اس پیج میں جو ویرفکیشن کوڈ آپ کو 
سوشیوآن کی طرف سے آپ کے نمبر پر ملا 
ھوگا وہ لیکھکر نیکسٹ کر دیں 
اب آپ اپنے جی میل میں جا کے 
سوشیوآن کا میل چیک کریں اس میں
ویری فیکیشن لنک میلے گا اس پر کلک کریں 
آپ کا اکاؤنٹ تیار ہے



برصغیر پاک و ہند کی
 معروف مذہبی و روحانی شخصیت
حضرت پیر جماعت علی شاہؒ
نے ایک بار قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو
قرآن پاک، جائے نماز اور تسبیح
تحفے میں بھیجی ۔



قائداعظم محمد علی جناحؒ نے نہایت ادب اور محبت سے یہ تینوں تحفے وصول اور قبول کئے ۔

بانی پاکستان نے تحفوں کے جواب میں ایک خط حضرت پیر جماعت علی شاہؒ کو تحریر کیا۔

خط میں بانی پاکستان نے پیر صاحبؒ تحفہ
بھیجنے پر شکریہ ادا کیا اور عرض کی کہ
حضورمیں جانتا ہوں کہ آپؒ نے یہ تین مقدس اشیا
تحفے میں مجھے کیوں بھیجی اور ان بھیجی اور
ان کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ آپؒ نے قرآن پاک اس
لیے بھیجا کہ میں پڑھ کر اللہ کے احکامات کو
جانوں اور اسے نافذ کروں، اور جائے نماز اس لیے
بھیجا کہ جو آدمی اللہ کی اطاعت نہ کرے اس
کی اطاعت اس کی قوم بھی نہیں کرتی، اور
تسبیح اس لیے بھیجی کہ میں آقا دو عالم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجوں کہ جو درود
شریف نہیں پڑھتا اس پر اللہ کی رحمت نہیں
ہوتی۔خط حضرت پیر جماعت علی شاہ ؒ کو
موصول ہوا ۔ آپ ؒ نے بانی پاکستان کا خط کھولا
اور پڑھنا شروع کر دیا۔

خط پڑھنے کے بعد حضرت پیر جماعت علی شاہ ؒنے فرمایا۔ اللہ کی قسم ، محمد علی جناح اللہ کے ولی ہیں۔ اسے کیسے پتہ لگا کہ یہ تحفے میں نے اسی نیت سے بھیجے ہیں۔

حضرت پیر سید جماعت علی شاہ اپنے دور کے بہت نیک سیرت اللہ کے بندوں میں شمار ہوتے تھے انہوں نے ایک دفعہ کہا کہ محمد علی جناح اللہ کا ولی ہے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آپ اس شخص کی بات کر رہے ہیں جو دیکھنے میں گورا یعنی انگریز نظر آتا ہے اور اس نے داڑھی بھی نہیں رکھی ہوئی۔ تو امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا ’’ کہ تم اس کو نہیں جانتے وہ ہمارا کام کر رہا ہے‘‘۔ پیر صاحب کے اس دور میں تقریبا 10 لاکھ مرید تھے۔ آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ اگر کسی نے مسلم لیگ اور قائداعظم کو ووٹ نہ دیا۔ وہ میرا مرید نہیں۔

مرنے سے پہلے آپ نے اپنے ڈاکٹر سے کہا ’’ کہ پاکستان ہرگز وجود میں نہ آتا اگر اس میں فیضان نبوی ﷺ شامل نہ ہوتا ‘‘


آخر میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ایک قول جو انہوں نے قائداعظم کے لئے کہا
"محمد علی جناح کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ شخص خیانت کر سکتا ہے‘‘
۔(ماخوذ حیات قائد اعظم ۔وقائد و مسلک قائد اعظم علیہ الرحمہ )



اللہ عزوجل قائداعظم محمد علی جناح پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین

شہادت سے پہلے 400 دہشتگردوں کا مقابلہ، پاک فوج کا ایسا شہید افسرجو آج بھی اپنی والدہ سے باتیں کرتا ہے، دنیا کی عسکری تاریخ میں نیا باب رقم کرنیوالے میجر واصف حسین شاہ شہید کی شہادت کا ایسا واقعہ جو آپ کے خون میں بجلیاں بھر دیگا


شہادت ہے مطلوب مقصود مومن ، نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی۔ علامہ اقبال نے شہادت کی خواہش کو اتنے خوبصورت انداز میں نہایت جامعہ انداز میں بیان کر کے دنیا پر شہادت کے شوق کی ایسی تصویر کشی کر دی ہے کہ رہتی دنیا تک لوگ شہادت کی تمنا کو اقبال کے اس شعر سے سمجھتے رہیں گے۔ وطن عزیز پاکستان پر جب دہشتگردی کی آسیب نےپنجے گاڑے تو وطن کی مٹی میں کچھ آشفتہ سر میدان میں آئے اور اس مملکت خداداد کی حفاظت کیلئے اپنا کل ہم لوگوں کے آج پر نچھاور کرتے ہوئے شہید
سے کئے گئے رب تعالیٰ کے حسین وعدوں کے سپرد کر دیا۔ انہی آشفتہ سروں میں ایک مانسہرہ کی غیور دھرتی کا سپوت میجر واصف حسین شاہ بھی تھا۔ خانوادہ اہل بیت ؓ سے تعلق رکھنے والا پاک دھرتی کا یہ سپوت میدان میں اترا تو اس کے خون میں علیؓ کی شجاعت بھی دوڑ رہی تھی اور حسینؓ کی قربانی کا جذبہ بھی۔ اپنے عظیم اسلاف کے کارناموں کو دیکھتے ہوئے میجر واصف حسین شاہ شہید نے وہ کارنامہ سر انجام دے دیا جودنیا کی عسکری تاریخ لکھنے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال گیا۔ یہ 15اکتوبر 2014کا دن تھا۔ میجر واصف حسین شاہ شہید اپنے 4جوانوں کے ہمراہ دشمن کے نرغے میں تھے۔ دشمن بھی پانچ یا دس نہیں بلکہ 400کے قریب دہشتگردوں گیڈروں کے غول نے شیروں کو گھیر رکھا تھا۔ پھر وہ معرکہ عسکری تاریخ میں رقم ہوا کہ دنیا ورطہ حیرت میں مبتلا ہو گئی۔ میجر واصف حسین شاہ شہید اور ان کے 4جوان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ دور سے دیکھنے پر ایسے معلوم ہوتا تھا کہ دو طاقتور فوجیں پوری قوت سے آپس میں ٹکرا گئی ہیں مگر ایک طرف صرف 4اور دوسری جانب 400کا لشکر تھا۔میجر واصف حسین شاہ شہید اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے اور دشمن پر بڑھ چڑھ کر حملہ کرتے، وہ کبھی ایک جانب چاروں ساتھیوں کو لیکر ہلہ بول دیتے تو کبھی دوسری جانب ، دشمن بوکھلا گیا ، میجر واصف حسین شاہ شہید کامیاب ہو چکے تھے وہ دشمن کو باور کراچکے تھے کہ اس کا مقابلہ چار سے نہیں بلکہ اپنی تعداد کے برابر حریف سے ہے۔ کئی گھنٹے مقابلہ جاری رہا بالآخر دشمن نےآخری ہلہ بول کر پسپا ہونے کا ارادہ کر لیا۔ اس دوران میجر واصف حسین شاہ شہید کی کمان میں ان کے ساتھی دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے تھے ۔ میجر واصف حسین شاہ شہید سمجھ چکے تھے دشمن پسپا ہونے سے قبل زبردست حملہ کرنے پر آچکا ہے ۔ وہ بھی فیصلہ کر چکے ، آخری فیصلہ۔ انہوں نے نہ صرف اس حملے کو پسپا کرنے بلکہ دشمن کو مزید نقصان پہنچانے کی ٹھان لی تھی ۔400سو دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والے نے دشمن کے چھکے چھڑا دئیے اور پھر خدا کا وعدہ آن پہنچا۔ میجر واصف حسین شاہ کو شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز کرنیکا حکم۔ وطن کے عظیم سپوت نے بہادری، شجاعت کی ایسی داستان رقم کر دی تھی کہ رہتی دنیا تک بزدل دشمن اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہو چکا تھا۔ میجر واصف حسین شاہ نے جان جانِ آفرین کے سپرد کیاور شہادت کے عظیم مرتبے کو پا لیا۔ مانسہرہ کے نواحی علاقے شیخ آباد میں آپ کی تدفین ہوئی۔ پاک فوج نے اپنے اس بہادر سپوت کو ستارہ بسالت سے نوازا اور آج 6ستمبر 2018کے موقع پر پوری قوم اپنے شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی عظیم قربانیوں پر ان کے اہل خانہ کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے۔پاکستان کے ایک مؤقر اخبار سے بات کرتے ہوئے میجر واصف حسین شاہ شہید کےوالد ارشاد حسین شاہ کا کہنا ہے کہ بحیثیت انسان اولاد کا دکھ ضرور ہوتا ہےمگر میرے بیٹےنے جو کارنامہ پاکستان کے لئے،اس ملک کے عوام کے لئے اور امن کے لئے سر انجام دیا ہے میں اسےسلیوٹ کرتا ہوں۔میجر واصف کی شجاعت کے اعتراف میں بیدڑہ روڈ کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے۔ میجر واصف کی یادوں کو سینے سے لگائے والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد شہید بیٹےکی موجودگی کو بار بار محسوس کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کے پاس ہےبہت خوش ہے، میری بچی کے خواب میں آیا اور کہا امی جان کو بولیں پریشان نہ ہوں میں انکے پاس ہوں اور میں نے جو کام کیا ہے انکی اور والد کی عزت کے لئے کیا ہے۔میجر واصف اور ان جیسے سیکڑوں جوانوں کی شہادت اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان کے فرزند ارض پاک پر جان قربان کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔

پاک فوج زندہ باد

Author Name

[Story][hot]

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.