Latest Post

ایک بزرگ ولی اللہ جناب داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ سے منسوب ایک حکایت ہے کہ:
ان کے شہر ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﯿﻮﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﮮ۔ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﻞ ﺟﻤﻊ ﭘﻮﻧﺠﯽ ﺑﺲ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﺍﻭﻥ ﺧﺮﯾﺪ ﻻﺋﯽ، ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺭﮨﻢ ﻭﺻﻮﻝ ﭘﺎﺋﮯ۔ ﺩﻭ ﺩﺭﮨﻢ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺍﻭﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﺋﯽ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﺑﺴﺮ ﮐﯿﺎ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻥ ﻟﯿﮑﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭨﯽ، ﺍﻭﻥ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮌﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻥ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻞ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﻮﮞ ﻟُﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﻮﮨﺎﻥ ﺭﻭﺡ ﺗﮭﺎ، ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﯽ ﮨﻮﻟﻨﺎﮐﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﻭ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﺳﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔
 ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺳﯿﺪﮬﺎ جناب داؤد طائی ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺼﮧ ﺳﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺭﺏ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻇﺎﻟﻢ؟ جناب داؤد طائی ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻦ ﮐﺮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ابھی اسے تسلی دے رہے تھے کہ اتنے میں ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ، ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﺱ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮐﻮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺣﻀﺮﺕ ﮨﻢ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﻮﺕ ﺻﺎﻑ ﻧﻈﺮ ﺁ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮔﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ، ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎ دیں ﺗﻮ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﺻﺪﻗﮧ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺩُﻋﺎ ﮐﺮ ﮨﯽ
 ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﻧﮯ کہیں سے ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﻮﻻ ﻻ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺎ۔ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﺎﯾﺎ، ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﺎﺣﻞ ﭘﺮ ﺁ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﻮﭼﮭﺎ تو ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻟﯿﺠﯿﺌﮯ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﺴﺘﺤﻘﯿﻦ ﮐﻮ ڈھونڈ کر ﺩﮮ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ گا
 داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ اللہ رب العزت کی اس حکمت پر حیران و پریشان ہوتے ہوئے ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﻟﯿﮑﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺍﻧﺪﺭ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﮯ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﺍُﺳﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻇﺎﻟﻢ؟
بیوہ عورت داؤد طائی رحمتہ اللہ کے چہرے کو تکتی رہ گئی... اسکی آنکھوں سے اشک جاری تھے... گویا اس کے جسم کا ہر ہر حصہ, ہر ہر بال رب کے شکر میں ڈوبا جا رہا ہو.
اللہ کی تدبیریں ہماری سوچ سے کہیں بہتر ہیں. اللہ کا شکر ادا کریں اور اسکی ذات پر مکمل بھروسہ رکھیں. وہ کسی کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
پوسٹ اچھی لگے تو شیئر ضرور کر دیا کریں تاکہ دوسرے لوگوں تک پہنچ سکے اور کومنٹ میں اپنی رائے ضرور دیا کریں تاکہ احباب دوست پوسٹ کے متعلق متوجہ ہو سکیں ۔
جزاک اللّه


پرانے وقــتوں كـى بات ہے كہ ايک بادشاه كے دربار ميں ايک اجنبى حاضر هوا اور بادشاه سے نوكرى كا طلبگار هوا – بادشاه نے جب اسكى قابليت دريافت كى تو اسنے بتايا كہ وه سياسى (عربى مين سياسى كا مطلب هوتا هى كه افهام و تفهيم سى مسئلى كا حل نكالنى والا اور معامله فهم آدمى) ہے - بادشاه كے پاس پہلے ہى سياستدانوں كى لمبی قطار تهى ليكن اتفاق سے اسكے اصطبل كا مسئول يا ذمه دار فوت هو چكا تها چنانچہ بادشاه نے اسے اپنے خاص اصطبل كا مسئول بنا ديا-
كچھ دن بعد بادشاه نے اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گهوڑے كے بارے ميں دريافت كيا تو اس نے كہا كہ يه گهوڑا نسلی نہیں ہے – بادشاه نے وه گهوڑا بڑا مہنگا خريدا تها چنانچہ بادشاه نے اس شخص كو حاضر كرنے كا حكم صادر كيا جو دور كہيں جنگل ميں گهوڑے سدهانے اور سدها كر بيچنے كا كاروبار كرتا تها – جب وه شخص حاضر هوا تو بادشاه نے اس شخص سے دریافت کیا كہ تم نے تو مجهے یہ گهوڑا اصيل اور نسلى کہ کر بيچا تها ليكن يہ تو نسلى نہیں – اس شخص نے جواب ديا كہ بادشاه سلامت گهوڑا ہے تو نسلى ليكن اسكى پيدائش كے وقت اسكى ماں مر گئى تهى چنانچہ يہ گهوڑا ايک گائے كا دودھ پى كر اور اسی گائے کے زیر سایہ پلا ہے اور بچپن اسنے گائے كے ساتھ ہى گذارا ہے
بادشاه نے اس شخص كو رخصت كيا اور اپنے اصطبل كے مسئول كو بلا كر پوچها كہ تم كو كيسى پتا چلا كہ گهوڑا اصيل نہیں – اسنے جواب ديا كہ گهوڑا جب گھاس كهاتا ہے تو سر نيچے كر كى گائیوں كى طرح گهاس كهاتا هى جبكہ نسلى گهوڑا گهاس منہ ميں لے كر سر اٹها ليتا ہے
بادشاه اسكى فراست سے خاصا متاثر اور حيران هوا اور اسكى گهر ميں اناج ، ، گھی ، بهنے دنبے اور پرندوں كا اعلى گوشت بطور انعام بھجوایا
اسکے ساتھ ساتھ اسكو اپنى بيگم كے محل ميں تعينات كر ديا – كچھ عرصه گذرنے كے بعد اسنے اپنے مصاحب سے اپنى بيگم كے بارى ميں رائے مانگی تو اسنے جواب ديا كہ اسكى طور اطور تو ملكہ جيسے ہیں ليكن شهزادى (كسى بادشاه كى بيٹى) نہیں ہے – يہ سن كر بادشاه كے پيروں تلے سے زمين نكل گئى كيونكہ اسكى بيوى ايک بادشاه كى بيٹى تهى –بادشاه نے اپنے حواس درست کیے اور اپنى ساس كو بلا بهيجا اور معامله اسكى گوش گذار كيا – بادشاه كى ساس نے اسے جواب ديا كہ حقيقت يہ هے كہ تمارے باپ نے ميرے مياں سے ہمارى بيٹى كي پيدائش پر ہی اسكا رشته مانگ ليا تها ليكن همارى بيتى 6 ماه كى عمر ميں فوت هو گئى چنانچہ ہم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے واسطے اس بچی کو اپنى بيٹى بنا ليا اور اسكى پرورش كر کے تمہارے ساتھ اس کی شادی کر دی
بادشاه نے مصاحب سے دريافت كيا كہ تم كو كيسے پتا چلا كہ ميرى بيوى شهزادى نہیں ہے – اسنے كہا كہ اسكا سلوک خادموں كے ساتھ ٹھيک نہيں اور بادشاه اسطرح نہیں كرتے
بادشاه اپنے مصاحب كى فراست سے مزید متاثر هوا اور بہت سا اناج اور بهيڑ بكرياں بطور انعام اس مصاحب كو دين اور اسکے ساتھ ساتھ اسے اپنے دربار ميں متعين كر ديا – كچھ عرصه گزرنے كے بعد اسنے اپنے اس مصاحب سے اپنى بارے ميں دريافت كيا – مصاحب نے كہا كہ اگر جان كى امان پاؤں تو عرض كروں – بادشاه نے اس سے جان كى امان كا وعده كيا تو اسنے كہا كہ تم هو تو بادشاه ليكن نہ تم بادشاه كى بچے ہو نہ تو تمہارا چال چلن بادشاہوں جيسا ہے

یہ سن کر بادشاه كے پاؤں تلے زمين نكل گئى امان كا وعده وه پہلے ہی دے چكا تها چنانچہ وه اس گتهى كو بهى سلجهانے اپنى والده كے محل جا پہنچا تا كہ پتا چلے كہ ماجرا كيا ہے
اس كى والده نے اسكى بات سن كر كہا كہ ہاں تم بادشاه كے نہیں بلكہ ايک چرواہے كے بيٹے ہو
بادشاه نے مصاحب كو بلايا اور اس سے پوچها كہ تمہیں كيسے پتا چلا كہ ميں بادشاه كا بيٹا نہیں ہوں – مصاحب نے بادشاہ کو جواب دیا كہ بادشاه جب كسى كو انعام و اكرام ديا كرتے ہیں تو ہيرے موتی اور جواہرات كى شكل ميں ديتے ہيں ليكن تم جب بهى كسى كو انعام و اكرام سے نوازتے ہو تو اناج اور بهيڑ بكرياں اور كهانے پينے كي چيزيں عنايت كرتے ہو يہ اسلوب كسى بادشاه كے بيٹے كا نہیں بلكہ كسى چرواہے كے بيٹے كا ہی ہو سكتا ہے..!!



پرانے وقــتوں كـى بات ہے كہ ايک بادشاه كے دربار ميں ايک اجنبى حاضر هوا اور بادشاه سے نوكرى كا طلبگار هوا – بادشاه نے جب اسكى قابليت دريافت كى تو اسنے بتايا كہ وه سياسى (عربى مين سياسى كا مطلب هوتا هى كه افهام و تفهيم سى مسئلى كا حل نكالنى والا اور معامله فهم آدمى) ہے - بادشاه كے پاس پہلے ہى سياستدانوں كى لمبی قطار تهى ليكن اتفاق سے اسكے اصطبل كا مسئول يا ذمه دار فوت هو چكا تها چنانچہ بادشاه نے اسے اپنے خاص اصطبل كا مسئول بنا ديا-
كچھ دن بعد بادشاه نے اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گهوڑے كے بارے ميں دريافت كيا تو اس نے كہا كہ يه گهوڑا نسلی نہیں ہے – بادشاه نے وه گهوڑا بڑا مہنگا خريدا تها چنانچہ بادشاه نے اس شخص كو حاضر كرنے كا حكم صادر كيا جو دور كہيں جنگل ميں گهوڑے سدهانے اور سدها كر بيچنے كا كاروبار كرتا تها – جب وه شخص حاضر هوا تو بادشاه نے اس شخص سے دریافت کیا كہ تم نے تو مجهے یہ گهوڑا اصيل اور نسلى کہ کر بيچا تها ليكن يہ تو نسلى نہیں – اس شخص نے جواب ديا كہ بادشاه سلامت گهوڑا ہے تو نسلى ليكن اسكى پيدائش كے وقت اسكى ماں مر گئى تهى چنانچہ يہ گهوڑا ايک گائے كا دودھ پى كر اور اسی گائے کے زیر سایہ پلا ہے اور بچپن اسنے گائے كے ساتھ ہى گذارا ہے
بادشاه نے اس شخص كو رخصت كيا اور اپنے اصطبل كے مسئول كو بلا كر پوچها كہ تم كو كيسى پتا چلا كہ گهوڑا اصيل نہیں – اسنے جواب ديا كہ گهوڑا جب گھاس كهاتا ہے تو سر نيچے كر كى گائیوں كى طرح گهاس كهاتا هى جبكہ نسلى گهوڑا گهاس منہ ميں لے كر سر اٹها ليتا ہے
بادشاه اسكى فراست سے خاصا متاثر اور حيران هوا اور اسكى گهر ميں اناج ، ، گھی ، بهنے دنبے اور پرندوں كا اعلى گوشت بطور انعام بھجوایا
اسکے ساتھ ساتھ اسكو اپنى بيگم كے محل ميں تعينات كر ديا – كچھ عرصه گذرنے كے بعد اسنے اپنے مصاحب سے اپنى بيگم كے بارى ميں رائے مانگی تو اسنے جواب ديا كہ اسكى طور اطور تو ملكہ جيسے ہیں ليكن شهزادى (كسى بادشاه كى بيٹى) نہیں ہے – يہ سن كر بادشاه كے پيروں تلے سے زمين نكل گئى كيونكہ اسكى بيوى ايک بادشاه كى بيٹى تهى –بادشاه نے اپنے حواس درست کیے اور اپنى ساس كو بلا بهيجا اور معامله اسكى گوش گذار كيا – بادشاه كى ساس نے اسے جواب ديا كہ حقيقت يہ هے كہ تمارے باپ نے ميرے مياں سے ہمارى بيٹى كي پيدائش پر ہی اسكا رشته مانگ ليا تها ليكن همارى بيتى 6 ماه كى عمر ميں فوت هو گئى چنانچہ ہم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے واسطے اس بچی کو اپنى بيٹى بنا ليا اور اسكى پرورش كر کے تمہارے ساتھ اس کی شادی کر دی
بادشاه نے مصاحب سے دريافت كيا كہ تم كو كيسے پتا چلا كہ ميرى بيوى شهزادى نہیں ہے – اسنے كہا كہ اسكا سلوک خادموں كے ساتھ ٹھيک نہيں اور بادشاه اسطرح نہیں كرتے
بادشاه اپنے مصاحب كى فراست سے مزید متاثر هوا اور بہت سا اناج اور بهيڑ بكرياں بطور انعام اس مصاحب كو دين اور اسکے ساتھ ساتھ اسے اپنے دربار ميں متعين كر ديا – كچھ عرصه گزرنے كے بعد اسنے اپنے اس مصاحب سے اپنى بارے ميں دريافت كيا – مصاحب نے كہا كہ اگر جان كى امان پاؤں تو عرض كروں – بادشاه نے اس سے جان كى امان كا وعده كيا تو اسنے كہا كہ تم هو تو بادشاه ليكن نہ تم بادشاه كى بچے ہو نہ تو تمہارا چال چلن بادشاہوں جيسا ہے

یہ سن کر بادشاه كے پاؤں تلے زمين نكل گئى امان كا وعده وه پہلے ہی دے چكا تها چنانچہ وه اس گتهى كو بهى سلجهانے اپنى والده كے محل جا پہنچا تا كہ پتا چلے كہ ماجرا كيا ہے
اس كى والده نے اسكى بات سن كر كہا كہ ہاں تم بادشاه كے نہیں بلكہ ايک چرواہے كے بيٹے ہو
بادشاه نے مصاحب كو بلايا اور اس سے پوچها كہ تمہیں كيسے پتا چلا كہ ميں بادشاه كا بيٹا نہیں ہوں – مصاحب نے بادشاہ کو جواب دیا كہ بادشاه جب كسى كو انعام و اكرام ديا كرتے ہیں تو ہيرے موتی اور جواہرات كى شكل ميں ديتے ہيں ليكن تم جب بهى كسى كو انعام و اكرام سے نوازتے ہو تو اناج اور بهيڑ بكرياں اور كهانے پينے كي چيزيں عنايت كرتے ہو يہ اسلوب كسى بادشاه كے بيٹے كا نہیں بلكہ كسى چرواہے كے بيٹے كا ہی ہو سكتا ہے..!!

5:12 am


پاکستان کھلاڑیوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے راشد خان نامی افغانی کرکٹر کے بارے میں کچھ دلچسپ انکشافات سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔
جن پر متعلقہ ادروں کی فوری تحقیق اور ایکشن کی ضرورت ہے۔

افغان کرکٹر راشد آرمان شینواری ولد حاجی خلیل ضلع آچین گاؤں پیخہ ننگرھار کے پاس افغانستان کے علاوہ پاکستان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی ہے۔

اس نے پاکستانی شناختی کارڈ پر ہی اسلامیہ کالج میں تعلم بھی حاصل کی ہے۔

اس کے تمام بھائیوں حاجی عبدالحلیم، میاں حلیم، سید حلیم، گل رضاء، گل صباح اور جلیل نے بھی پاکستانی نادرا سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا رکھے ہیں۔

یہ خاندان پاکستان ہی کے شہر پشاور میں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹوں پر چین کے ساتھ الیکٹرانکس، ٹائر اور ریم کا کاروبار کرتے ہیں۔

پاکستان کے شہر پشاور میں ان کے حیات آباد اور بورڈ میں کروڑؤں روپے کے عالیشان بنگلے ہیں جن میں اس پورے خاندان کی رہائش ہے۔

اسی طرح انہوں نے پاکستانی وفاق کے زیر انتظام علاقے لنڈی کوتل مختارخیل میں قلعہ نماء حویلی اور اس کے اندر کئی بنگلے بنا رکھے ہیں۔

بیرون ملک سفر کرنے کے لیے بھی یہ پورا خاندان پاکستانی پاسپورٹ ہی استعمال کرتا ہے۔

راشد آرمان شینواری خود تسلیم کرتاہے کہ وہ آفغانستان کا شھری ضلع آچین پیخہ کا رھنے والا ہے اور اپنی نجی محفلوں میں پاکستان کے خلاف خوب بکواس بھی کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس خاندان کو کس نے اور کس قانون کے تحت پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کر رکھے ہیں؟؟

عمران خان نے ادارے ٹھیک کرنے کی بات کی ہے۔ راشد خان متعلقہ اداروں کے لیے ایک ٹسٹ کیس ہے۔ اب پاکستانی قوم دیکھنا چاہتی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس معاملے میں کیا ایکشن لیتے ہیں۔

جس بدتمیزی سے وہ پاکستانیوں کھلاڑوں کو باہر جانے کا اشارہ کر رہا تھا اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان بھی اس خاندان کو واپس افغانستان جانے کا اشارہ کرے!

تحریر شاہدخان


Book Name: Devta (complete)

Writer: Mohiuddin Nawab


Description:

Mohiuddin Nawab is the author of the book Devta Novel. It is the longest novel in any language of the world and published for more than 33 years. Mohiuddin Nawab wrote this story Devta for Suspense Digest Karachi, which is posting for a long time. Now you can download all 56 parts of the Devta in Pdf format here.

The author of the book Devta Novel was a notable writer of Urdu story and novel. He authored more than 500 books, and most of them published. It is a credit of Mohiuddin Nawab that he made the Urdu digest attractive and knowledgeable for the story readers. The author has a vast knowledge and knows Arabic, Persian, Bengali, Sanskrit, and English languages also.
Devta is an autobiography of a person Farhad Ali Taimoor, who was the master of telepathy. The story rounds around the Farhad and his family. They faced the hardships and conspiracies of Jews and Hindus.
A Jewish spymaster and his team tried to harm to Farhad but failed to do. The Indian Hindus also favoured the Americans and Jews. The family of Farhad Ali Taimoor fought against them. They defeated all the opponents and became a winner in all battlefields. Now you can download all 56 parts of the Devta in Pdf form.
Now you can download and read the book Devta Novel offline just by clicking the below download link.

All Parts Of Devta:

All Parts Of Devta:


Author Name

[Story][hot]

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.